کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 649
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَجَعَلَهَا فِي فُقَرَائِنَا وَكُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا فَأَعْطَانِي مِنْهَا قَلُوصًا. قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آیا اور اس نے زکاۃ ہمارے مالداروں سے لی اور اسے ہمارے فقراء کو دے دیا ۔ میں اس وقت ایک یتیم لڑکا تھا ، تو اس نے مجھے بھی اس میں سے ایک اونٹنی دی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوجحیفہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: (649) إسناده ضعيف, أشعث بن سوار : ضعيف (تق:524) وقال النووي: وقد ضعفه الأكثرون ووثقه بعضھم (المجموع شرح المھذب 22/8)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 11804) (ضعیف الإسناد) (سند میں اشعث بن سوار ضعیف ہیں، لیکن مسئلہ یہی ہے جو دیگر دلائل سے ثابت ہے)»