کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مسلمانوں پر جزیہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَكْثَمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سر زمین پر دو قبلے ہونا درست نہیں ۱؎ اور نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ایک سر زمیں پر دو قبلے کا ہونا درست نہیں کا مطلب یہ ہے کہ ایک سر زمین پر دو دین والے بطور برابری کے نہیں رہ سکتے کوئی حاکم ہو گا کوئی محکوم۔
۲؎: نہ ہی مسلمانوں پر جزیہ درست ہے کا مطلب یہ ہے کہ ذمیوں میں سے کوئی ذمی اگر جزیہ کی ادائیگی سے پہلے مسلمان ہو گیا ہو تو اس سے جزیہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 633
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (1244) // 1257 //، الضعيفة (4379) // ضعيف الجامع الصغير (6239) ، ضعيف أبي داود (655 / 3032) نحوه // , شیخ زبیر علی زئی: (633 ،634) إسناده ضعيف /د 3032
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الخراج 28 (3032) ، ( تحفة الأشراف : 5399) ، مسند احمد (1/285) (ضعیف) (سند میں قابوس ضعیف ہیں)»
حدیث نمبر: 634
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَجَدِّ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ النَّصْرَانِيَّ إِذَا أَسْلَمَ وُضِعَتْ عَنْهُ جِزْيَةُ رَقَبَتِهِ ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ " إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ جِزْيَةَ الرَّقَبَةِ ، وَفِي الْحَدِيثِ مَا يُفَسِّرُ هَذَا حَيْثُ ، قَالَ : إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ ، وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` قابوس سے اسی طرح مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عباس کی حدیث قابوس بن ابی ظبیان سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ،
۲- اس باب میں سعید بن زید اور حرب بن عبیداللہ ثقفی کے دادا سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ نصرانی جب اسلام قبول کر لے تو اس کی اپنی گردن کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ليس على المسلمين عشور» ” مسلمانوں پر عشر نہیں ہے “ کا مطلب بھی گردن کا جزیہ ہے ، اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت کر دی گئی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا : ” عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے ، مسلمانوں پر کوئی عشر نہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
ا؎: یہ حدیث سنن ابی داود میں ہے اس حدیث کا تشریح المرقاۃ شرح المشکاۃ اور عون المعبود میں دیکھ لیں، کچھ وضاحت اس مقام پر تحفۃ الأحوذی میں بھی آ گئی ہے، اور عشر سے مراد ٹیکس ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 634
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: // ضعيف الجامع الصغير (2050) ، المشكاة (4039) ، ضعيف أبي داود برقم (660 / 2046) ، يرويه الجميع عن حرب بن عبيد الله، عن جده أبي أمه، عن أبيه // , شیخ زبیر علی زئی: (633 ،634) إسناده ضعيف /د 3032
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (ضعیف)»