کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: گھوڑے اور غلام میں زکاۃ کے نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا فِي عَبْدِهِ صَدَقَةٌ " . وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَيْسَ فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي الرَّقِيقِ ، إِذَا كَانُوا لِلْخِدْمَةِ صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا لِلتِّجَارَةِ ، فَإِذَا كَانُوا لِلتِّجَارَةِ فَفِي أَثْمَانِهِمُ الزَّكَاةُ إِذَا حَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان پر نہ اس کے گھوڑوں میں زکاۃ ہے اور نہ ہی اس کے غلاموں میں زکاۃ ہے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ پالتو گھوڑوں میں جنہیں دانہ چارہ باندھ کر کھلاتے ہیں زکاۃ نہیں اور نہ ہی غلاموں میں ہے ، جب کہ وہ خدمت کے لیے ہوں الاّ یہ کہ وہ تجارت کے لیے ہوں ۔ اور جب وہ تجارت کے لیے ہوں تو ان کی قیمت میں زکاۃ ہو گی جب ان پر سال گزر جائے ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث کے عموم سے ظاہر یہ نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ گھوڑے اور غلام میں مطلقاً زکاۃ واجب نہیں گو وہ تجارت ہی کے لیے کیوں نہ ہوں، لیکن یہ صحیح نہیں ہے، گھوڑے اور غلام اگر تجارت کے لیے ہوں تو ان میں زکاۃ بالاجماع واجب ہے جیسا کہ ابن منذر وغیرہ نے اسے نقل کیا ہے، لہٰذا اجماع اس کے عموم کے لیے مخص ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 628
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1812) ، الضعيفة (4014)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الزکاة 45 (1463) ، و46 (1464) ، صحیح مسلم/الزکاة 2 (982) ، سنن ابی داود/ الزکاة 10 (1594) ، سنن النسائی/الزکاة 16 (2470) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة 15 (1812) ، ( تحفة الأشراف : 14153) ، مسند احمد (2/242، 254، 279، 410، 432، 469، 470، 477) ، سنن الدارمی/الزکاة 10 (1672) (صحیح)»