حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ " . وَفِي الْبَاب عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَكَذَا رَوَاهُ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، وَعَبْدُ السَّلَامِ ثِقَةٌ حَافِظٌ ، وَرَوَى شَرِيكٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ خُصَيْفٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أُمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیس گائے میں ایک سال کا بچھوا ، یا ایک سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے اور چالیس گایوں میں دو سال کی بچھیا کی زکاۃ ہے ( دانتی یعنی دو دانت والی ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عبدالسلام بن حرب نے اسی طرح یہ حدیث خصیف سے روایت کی ہے ، اور عبدالسلام ثقہ ہیں حافظ ہیں ،
۲- شریک نے بھی یہ حدیث بطریق : «خصيف عن أبي عبيدة عن أمه عن عبد الله» روایت کی ہے ،
۳- اور ابوعبیدہ بن عبداللہ کا سماع اپنے والد عبداللہ سے نہیں ہے ۔
۴- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عبدالسلام بن حرب نے اسی طرح یہ حدیث خصیف سے روایت کی ہے ، اور عبدالسلام ثقہ ہیں حافظ ہیں ،
۲- شریک نے بھی یہ حدیث بطریق : «خصيف عن أبي عبيدة عن أمه عن عبد الله» روایت کی ہے ،
۳- اور ابوعبیدہ بن عبداللہ کا سماع اپنے والد عبداللہ سے نہیں ہے ۔
۴- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
حدیث نمبر: 623
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً ، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ وَهَذَا أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں :` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا اور حکم دیا کہ میں ہر تیس گائے پر ایک سال کا بچھوا یا بچھیا زکاۃ میں لوں اور ہر چالیس پر دو سال کی بچھیا زکاۃ میں لوں ، اور ہر ( ذمّی ) بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری ۱؎ کپڑے بطور جزیہ لوں ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «سفيان ، عن الأعمش ، عن أبي وائل ، عن مسروق» مرسلاً روایت کی ہے ۳؎ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا اور اس میں «فأمرني أن آخذ» کے بجائے «فأمره أن يأخذ» ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۴؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن ہے ،
۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «سفيان ، عن الأعمش ، عن أبي وائل ، عن مسروق» مرسلاً روایت کی ہے ۳؎ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو یمن بھیجا اور اس میں «فأمرني أن آخذ» کے بجائے «فأمره أن يأخذ» ہے اور یہ زیادہ صحیح ہے ۴؎ ۔
وضاحت:
۱؎: معافر: ہمدان کے ایک قبیلے کا نام ہے اسی کی طرف منسوب ہے۔
۲؎: اس حدیث میں گائے کے تفصیلی نصاب کا ذکر ہے، ساتھ ہی غیر مسلم سے جزیہ وصول کرنے کا بھی حکم ہے۔
۳؎: اس میں معافر کا ذکر نہیں ہے، اس کی تخریج ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
۴؎: یعنی یہ مرسل روایت اوپر والی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ مسروق کی ملاقات معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے نہیں ہے، ترمذی نے اسے اس کے شواہد کی وجہ سے حسن کہا ہے۔
۲؎: اس حدیث میں گائے کے تفصیلی نصاب کا ذکر ہے، ساتھ ہی غیر مسلم سے جزیہ وصول کرنے کا بھی حکم ہے۔
۳؎: اس میں معافر کا ذکر نہیں ہے، اس کی تخریج ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔
۴؎: یعنی یہ مرسل روایت اوپر والی مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ مسروق کی ملاقات معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے نہیں ہے، ترمذی نے اسے اس کے شواہد کی وجہ سے حسن کہا ہے۔
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : هَلْ يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمرو بن مرہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابوعبیدہ بن عبداللہ سے پوچھا : کیا وہ ( اپنے والد ) عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے کوئی چیز یاد رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ۔