حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذَا الْحَرْفِ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ يَاسِنٍ ، قَالَ : كُلَّ الْقُرْآنِ قَرَأْتَ غَيْرَ هَذَا الْحَرْفِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّ قَوْمًا يَقْرَءُونَهُ يَنْثُرُونَهُ نَثْرَ الدَّقَلِ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، إِنِّي لَأَعْرِفُ السُّوَرَ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ ، قَالَ : فَأَمَرْنَا عَلْقَمَةَ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " عِشْرُونَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَ كُلِّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں :` ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے لفظ «غَيْرِ آسِنٍ» یا «يَاسِنٍ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : کیا تم نے اس کے علاوہ پورا قرآن پڑھ لیا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، انہوں نے کہا : ایک قوم اسے ایسے پڑھتی ہے جیسے کوئی خراب کھجور جھاڑ رہا ہو ، یہ ان کے گلے سے آگے نہیں بڑھتا ، میں ان متشابہ سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملا کر پڑھتے تھے ۔ ابووائل کہتے ہیں : ہم نے علقمہ سے پوچھنے کے لیے کہا تو انہوں نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے پوچھا : انہوں نے بتایا کہ یہ مفصل کی بیس سورتیں ہیں ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
يَاسِنٍ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
يَاسِنٍ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔