کتب حدیث ›
سنن ترمذي › ابواب
› باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 593
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ مَعَهُ ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ ثُمَّ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْ تُعْطَهْ ، سَلْ تُعْطَهْ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ مُخْتَصَرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نماز پڑھ رہا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے ، ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ( بھی ) آپ کے ساتھ تھے ، جب میں ( قعدہ اخیرہ میں ) بیٹھا تو پہلے میں نے اللہ کی تعریف کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا ، پھر اپنے لیے دعا کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مانگو ، تمہیں دیا جائے گا ، مانگ تمہیں دیا جائے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے ،
۳- یہ حدیث احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے مختصراً روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے ،
۳- یہ حدیث احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے مختصراً روایت کی ہے ۔