حدیث نمبر: 405
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ : " كُنَّا نَتَكَلَّمُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، يُكَلِّمُ الرَّجُلُ مِنَّا صَاحِبَهُ إِلَى جَنْبِهِ حَتَّى نَزَلَتْوَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238 فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , وَمُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا : إِذَا تَكَلَّمَ الرَّجُلُ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَاسِيًا أَعَادَ الصَّلَاةَ ، وَهُوَ قَوْلُ : سفيان الثوري , وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : إِذَا تَكَلَّمَ عَامِدًا فِي الصَّلَاةِ أَعَادَ الصَّلَاةَ وَإِنْ كَانَ نَاسِيًا أَوْ جَاهِلًا أَجْزَأَهُ ، وَبِهِ يَقُولُ : الشَّافِعِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے ، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا ، یہاں تک کہ آیت کریمہ : «وقوموا لله قانتين» ” اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو “ نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کر لے تو نماز دہرائے ۔ سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہو جائے تو نماز کافی ہو گی ،
۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن مسعود اور معاویہ بن حکم رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں قصداً یا بھول کر گفتگو کر لے تو نماز دہرائے ۔ سفیان ثوری ، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ جب نماز میں قصداً گفتگو کرے تو نماز دہرائے اور اگر بھول سے یا لاعلمی میں گفتگو ہو جائے تو نماز کافی ہو گی ،
۴- شافعی اسی کے قائل ہیں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے، بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ ” بشرطیکہ تھوڑی ہو “ ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔