کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نماز میں جمائی لینے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 370
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَجَدِّ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّثَاؤُبَ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : إِنِّي لَأَرُدُّ التَّثَاؤُبَ بِالتَّنَحْنُحِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں جمائی آنا شیطان کی طرف سے ہے ، جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عدی بن ثابت کے دادا ( عبید بن عازب ) سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے نماز میں جمائی لینے کو مکروہ کہا ہے ، ابراہیم کہتے ہیں کہ میں جمائی کو کھنکھار سے لوٹا دیتا ہوں ۔
وضاحت:
۱؎: اور اگر روکنا ممکن نہ ہو تو منہ پر ہاتھ رکھے، کہتے ہیں: ہاتھ رکھنا بھی اسے روکنے کی کوشش ہے، جس کا حکم حدیث میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 370
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3289) ، والأدب 125 (6223) ، و128 (6226) ، صحیح مسلم/الزہد 9 (2994) ، ( تحفة الأشراف : 13962) ، وکذا (13019) ، مسند احمد (2/265، 397، 428، 517) ، ویأتي عند المؤلف في الأدب برقم: 2746) (صحیح)»