کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 351
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ ، فَجِئْتُ وَهُوَ " يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا ، لَا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا حَيْثُ مَا كَانَ وَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت سے بھیجا تو میں ضرورت پوری کر کے آیا تو ( دیکھا کہ ) آپ اپنی سواری پر مشرق ( پورب ) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے ، اور سجدہ رکوع سے زیادہ پست تھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، یہ حدیث دیگر اور سندوں سے بھی جابر سے مروی ہے ،
۲- اس باب میں انس ، ابن عمر ، ابوسعید ، عامر بن ربیعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- اور اسی پر بیشتر اہل علم کے نزدیک عمل ہے ، ہم ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے ، یہ لوگ آدمی کے اپنی سواری پر نفل نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ، خواہ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہو یا کسی اور طرف ہو ۔
وضاحت:
۱؎: واضح رہے کہ یہ جواز صرف سنن و نوافل کے لیے ہے، نہ کہ فرائض کے لیے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 351
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1112) دون السجود
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 277 (1227) ، وراجع أیضا: صحیح مسلم/المساجد 7 (540) ، سنن النسائی/السہو 6 (1190) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 59 (1018) ، ( تحفة الأشراف : 2750) ، مسند احمد (3/334) (صحیح)»