حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ : فِي الْمَزْبَلَةِ ، وَالْمَجْزَرَةِ ، وَالْمَقْبَرَةِ ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، وَفِي الْحَمَّامِ ، وَفِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ ، وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے : کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں ، مذبح میں ، قبرستان میں ، عام راستوں پر ، حمام ( غسل خانہ ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ , وَجَابِرٍ ، وَأَنَسٍ أَبُو مَرْثَدٍ اسْمُهُ : كَنَّازُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ ، وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَزَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْكُوفِيُّ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَقَدْ رَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَحَدِيثُ دَاوُدَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ ، مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اس مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے ، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے ،
۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے ،
۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین ، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق : «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق : «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے ۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے ، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے ، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے ، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے ،
۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے ،
۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین ، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق : «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق : «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے ۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے ، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے ، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں ۔