کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: نماز کو کتے، گدھے اور عورت نماز کے سوا کوئی اور چیز باطل نہیں کرتی۔
حدیث نمبر: 338
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى الرَّجُلُ وَلَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ أَوْ كَوَاسِطَةِ الرَّحْلِ ، قَطَعَ صَلَاتَهُ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ " فَقُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ : مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتَنِي كَمَا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , وَالْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَأَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ ، قَالُوا : يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ ، قَالَ أَحْمَدُ : الَّذِي لَا أَشُكُّ فِيهِ أَنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ، وَفِي نَفْسِي مِنَ الْحِمَارِ وَالْمَرْأَةِ شَيْءٌ ، قَالَ إِسْحَاق : لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ إِلَّا الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی نماز پڑھے اور اس کے سامنے کجاوے کی آخری ( لکڑی یا کہا : کجاوے کی بیچ کی لکڑی کی طرح ) کوئی چیز نہ ہو تو : کالے کتے ، عورت اور گدھے کے گزرنے سے اس کی نماز باطل ہو جائے گی “ ۱؎ میں نے ابوذر سے کہا : لال ، اور سفید کے مقابلے میں کالے کی کیا خصوصیت ہے ؟ انہوں نے کہا : میرے بھتیجے ! تم نے مجھ سے ایسے ہی پوچھا ہے جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا تو آپ نے فرمایا : ” کالا کتا شیطان ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابو سعید خدری ، حکم بن عمرو بن غفاری ، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ گدھا ، عورت اور کالا کتا نماز کو باطل کر دیتا ہے ۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں : مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ کالا کتا نماز باطل کر دیتا ہے لیکن گدھے اور عورت کے سلسلے میں مجھے کچھ تذبذب ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : کالے کتے کے سوا کوئی اور چیز نماز باطل نہیں کرتی ۔
وضاحت:
۱؎: یہاں باطل ہونے سے مراد نماز کے ثواب اور اس کی برکت میں کمی واقع ہونا ہے، سرے سے نماز کا باطل ہونا مراد نہیں، بعض علماء بالکل باطل ہو جانے کے بھی قائل ہیں کیونکہ ظاہری الفاظ سے یہی ثابت ہوتا ہے، اس لیے مصلے کو سترہ کی طرف نماز پڑھنے کی از حد خیال کرنا چاہیئے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 338
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (952)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 50 (510) ، سنن ابی داود/ الصلاة 110 (702) ، سنن النسائی/القبلة 7 (751) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 38 (952) ، ( تحفة الأشراف : 11939) ، مسند احمد (5/149، 551، 160، 161) ، سنن الدارمی/الصلاة 128 (1454) (صحیح)»