حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ، قَال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا حَتَّى إِنْ كَانَ يَقُولُ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ : يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ، قَالَ : وَنُضِحَ بِسَاطٌ لَنَا فَصَلَّى عَلَيْهِ "قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَمْ يَرَوْا بِالصَّلَاةِ عَلَى الْبِسَاطِ وَالطُّنْفُسَةِ بَأْسًا ، وَبِهِ يَقُولُ : أَحْمَدُ , وَإِسْحَاق ، وَاسْمُ أَبِي التَّيَّاحِ : يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے گھل مل جایا کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے کہتے : ابوعمیر ! «ما فعل النغير» ” بلبل کا کیا ہوا ؟ “ ہماری چٹائی ۱؎ پر چھڑکاؤ کیا گیا پھر آپ نے اس پر نماز پڑھی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ،
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ وہ چادر اور قالین پر نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: «بساط» یعنی بچھاون سے مراد چٹائی ہے کیونکہ یہ زمین پر بچھائی جاتی ہے۔