کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 330
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُهَا ، وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ : وَمَا الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَأَنَسٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اس کا انتظار کرتا ہے اور فرشتے اس کے لیے برابر دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ مسجد میں رہتا ہے ، کہتے ہیں «اللهم اغفر له » ” اللہ ! اسے بخش دے “ «اللهم ارحمه» ” اے اللہ ! اس پر رحم فرما “ جب تک وہ «حدث» نہیں کرتا “ ، تو حضر موت کے ایک شخص نے پوچھا : «حدث» کیا ہے ابوہریرہ ؟ تو ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا : آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج کرنا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں علی ، ابوسعید ، انس ، عبداللہ بن مسعود اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے مسجد میں بیٹھ کر نماز کے انتظار کرنے کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد میں «حدث» کرنا فرشتوں کے استغفار سے محرومی کا باعث ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (799)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الوضوء 34 (176) ، والصلاة 161 (445) ، و87 (477) ، والأذان 30 (647) ، و36 والبیوع 49 (2013) ، وبدء الخلق 7 (3229) ، صحیح مسلم/المساجد 49 (649) ، سنن ابی داود/ الصلاة 20 (469) ، سنن النسائی/المساجد 40 (734) ، سنن ابن ماجہ/المساجد 19 (799) ، ( تحفة الأشراف : 14723) ، مسند احمد (2/266، 289، 312، 319، 394، 415، 421، 486، 502) ، موطا امام مالک/الصلاة 27 (51) (صحیح)»