حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ "
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ رضی الله عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے : «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» ” اے میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے “ اور جب نکلتے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر صلاۃ ( درود ) و سلام بھیجتے اور یہ کہتے : «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» ” اے میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے “ ۔
حدیث نمبر: 315
وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ : قَالَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ : فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ بِمَكَّةَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ ، قَالَ : كَانَ إِذَا دَخَلَ ، قَالَ : " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ " وَإِذَا خَرَجَ ، قَالَ : " رَبِّ افْتَحْ لِي بَابَ فَضْلِكَ " ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ , وَأَبِي أُسَيْدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ فَاطِمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تُدْرِكْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى ، إِنَّمَا عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْهُرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ` میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتك» ” اے میرے رب ! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث ( شواہد کی بنا پر ) حسن ہے ، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے ،
۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے ، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں ،
۳- اس باب میں ابوحمید ، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- فاطمہ رضی الله عنہا کی حدیث ( شواہد کی بنا پر ) حسن ہے ، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے ،
۲- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے ، وہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں ،
۳- اس باب میں ابوحمید ، ابواسید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔