حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : " حَذْفُ السَّلَامِ سُنَّةٌ " . قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ : يَعْنِي أَنْ لَا يَمُدَّهُ مَدًّا . قال أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ وَرُوِيَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : التَّكْبِيرُ جَزْمٌ وَالسَّلَامُ جَزْمٌ ، وَهِقْلٌ يُقَالُ كَانَ كَاتِبَ الْأَوْزَاعِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں :` «حذف سلام» سنت ہے ۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں ،
۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے ( یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں ،
۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے ( یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے ) ۔