حدیث نمبر: 295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ " قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , وَابْنِ عُمَرَ , وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , وَالْبَرَاءِ , وَأَبِي سَعِيدٍ , وَعَمَّارٍ , ووَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , وَعَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ , وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ ، وَهُوَ قَوْلُ : سفيان الثوري وَابْنِ الْمُبَارَكِ , وَأَحْمَدَ , وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں «السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر سلام پھیرتے تھے ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص ، ابن عمر ، جابر بن سمرہ ، براء ، ابوسعید ، عمار ، وائل بن حجر ، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اور یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص ، ابن عمر ، جابر بن سمرہ ، براء ، ابوسعید ، عمار ، وائل بن حجر ، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، اور یہی سفیان ثوری ، ابن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے دونوں طرف دائیں اور بائیں سلام پھیرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے، ابوداؤد کی روایت میں «حتى يرى بياض خده» کا اضافہ ہے۔