کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: رکوع سے سر اٹھاتے وقت جو کہنا ہے اس سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 267
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَقُولَ الْإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَيَقُولَ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَبِهِ يَقُولُ : أَحْمَدُ ، وقَالَ ابْنُ سِيرِينَ : وَغَيْرُهُ يَقُولُ مَنْ خَلْفَ الْإِمَامِ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، مِثْلَ مَا يَقُولُ الْإِمَامُ ، وَبِهِ يَقُولُ : الشَّافِعِيُّ , وَإِسْحَاقُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب امام «سمع الله لمن حمده‏» ” اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی “ کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» ” ہمارے رب ! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں “ کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہے ۱؎ اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» کہیں ، یہی احمد کہتے ہیں ،
۳- اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے ( یعنی مقتدی ) ہو وہ بھی «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» اسی طرح کہے گا ۲؎ جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: متعدد احادیث سے (جن میں بخاری کی بھی ایک روایت ابوہریرہ رضی الله عنہ ہی سے ہے) یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امامت کی حالت میں «سمع اللہ لمن حمدہ» کے بعد «ربنا لک الحمد» کہا کرتے تھے، اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ امام «ربنا لک الحمد» نہ کہے۔
۲؎: لیکن حافظ ابن حجر کہتے ہیں (اور صاحب تحفہ ان کی موافقت کرتے ہیں) کہ مقتدی کے لیے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں کوئی واضح حدیث وارد نہیں ہے اور جو لوگ اس کے قائل ہیں وہ «صلوا كما رأيتموني أصلي» جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ویسے تم بھی صلاۃ پڑھو سے استدلال کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (794)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأذان 124 (795) ، و125 (796) ، وبدء الخلق 7 (3228) ، صحیح مسلم/الصلاة 18 (409) ، سنن ابی داود/ الصلاة 144 (848) ، سنن النسائی/التطبیق 23 (1064) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 18 (876) ، ( تحفة الأشراف : 12568) ، موطا امام مالک/الصلاة 11 (47) ، مسند احمد (2/236، 270، 300، 319، 452، 497، 502، 527، 533) (صحیح)»