کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: رکوع میں اپنے ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے الگ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 260
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ : اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ 63 ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ : أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا ، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَنَحَّاهُمَا عَنْ جَنْبَيْهِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي حُمَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ أَنْ يُجَافِيَ الرَّجُلُ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عباس بن سہل بن سعد کا بیان ہے کہ` ابوحمید ، ابواسید ، سہل بن سعد ، اور محمد بن مسلمہ ( رضی الله عنہم ) چاروں اکٹھا ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا ، ابوحمید رضی الله عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں ، اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح ( ٹائٹ ) بنایا اور انہیں اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ،
۳- اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصلاة / حدیث: 260
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (723) ، المشكاة (801) ، صفة الصلاة (110)
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأذان 145 (828) ، سنن ابی داود/ الصلاة 117 (730) ، سنن النسائی/التطبیق 6 (1040) ، والسہو 2 (1182) ، و29 (1061) ، ( تحفة الأشراف : 11892) ، وکذا (11897) ، سنن الدارمی/الصلاة 70 (1346) ، (کلہم مختصرا، ولین عند ذکرخ ذکر رفع الیدین إلا عند التحریمة) ، ویأتي عند المؤلف بارقام: 270، و293، و304) (صحیح)»