حدیث نمبر: 258
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ : قَالَ لَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " إِنَّ الرُّكَبَ سُنَّتْ لَكُمْ فَخُذُوا بِالرُّكَبِ " ، قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ , وَأَنَسٍ ، وَأَبِي حُمَيْدٍ ، وَأَبِي أُسَيْدٍ ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، وَأَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَبَعْضِ أَصْحَابِهِ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يُطَبِّقُونَ وَالتَّطْبِيقُ مَنْسُوخٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ` ہم سے عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا : گھٹنوں کو پکڑنا تمہارے لیے مسنون کیا گیا ہے ، لہٰذا تم ( رکوع میں ) گھٹنے پکڑے رکھو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں سعد ، انس ، ابواسید ، سہل بن سعد ، محمد بن مسلمہ اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ کرام ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ۔ سوائے اس کے جو ابن مسعود اور ان کے بعض شاگردوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ تطبیق ۱؎ کرتے تھے ، اور تطبیق اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- اس باب میں سعد ، انس ، ابواسید ، سہل بن سعد ، محمد بن مسلمہ اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ کرام ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ۔ سوائے اس کے جو ابن مسعود اور ان کے بعض شاگردوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ تطبیق ۱؎ کرتے تھے ، اور تطبیق اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے ۔
وضاحت:
۱؎: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر انہیں دونوں رانوں کے درمیان کر لینے کو تطبیق کہتے ہیں، یہ حکم شروع اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا اور عبداللہ بن مسعود کو اس کی منسوخی کا علم نہیں ہو سکا تھا، اس لیے وہ تاحیات تطبیق کرتے کراتے رہے۔
حدیث نمبر: 259
قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : " كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ " فَنُهِينَا عَنْهُ ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ الْأَكُفَّ عَلَى الرُّكَبِ " قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ بِهَذَا ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ : مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ : عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ اسْمُهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَبِيبٍ ، وَأَبُو يَعْفُورٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ ، وَأَبُو يَعْفُورٍ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ : وَاقِدٌ وَيُقَالُ وَقْدَانُ ، وَهُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى وَكِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ ایسا کرتے تھے ( یعنی تطبیق کرتے تھے ) پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں ۔