حدیث نمبر: 248
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ : آمِينَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَبِهِ يَقُولُ : غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ يَرَوْنَ أَنَّ الرَّجُلَ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّأْمِينِ وَلَا يُخْفِيهَا ، وَبِهِ يَقُولُ : الشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 فَقَالَ : " آمِينَ " وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : حَدِيثُ سُفْيَانَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ فِي هَذَا وَأَخْطَأَ شُعْبَةُ فِي مَوَاضِعَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : عَنْ حُجْرٍ أَبِي الْعَنْبَسِ وَإِنَّمَا هُوَ حُجْرُ بْنُ عَنْبَسٍ وَيُكْنَى أَبَا السَّكَنِ وَزَادَ فِيهِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، وَقَالَ : وَخَفَضَ بِهَا صَوْتَهُ ، وَإِنَّمَا هُوَ وَمَدَّ بِهَا صَوْتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَسَأَلْتُ أَبَا زُرْعَةَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : حَدِيثُ سُفْيَانَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَة ، قَالَ : وَرَوَى الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ نَحْوَ رِوَايَةِ سُفْيَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر ، آمین کہتے سنا ، اور اس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی ( یعنی بلند کی ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- وائل بن حجر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے ۔ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ۔
( شاذ ) ۴- شعبہ نے یہ حدیث بطریق «سلمة بن كهيل ، عن حُجر أبي العنبس ، عن علقمة بن وائل ، عن أبيه وائل» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھا تو آپ نے آمین کہی اور اپنی آواز پست کی ،
۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں ۱؎ انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے ، جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے «عن علقمة بن وائل» کا واسطہ بڑھا دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے ، حجر بن عنبس براہ راست حجر سے روایت کر رہے ہیں ، اور «وخفض بها صوته» ( آواز پست کی ) کہا ہے ، جب کہ یہ «ومدّ بها صوته» ( اپنی آواز کھینچی ) ہے ،
۶- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- وائل بن حجر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ،
۲- اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ،
۳- صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے ۔ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ۔
( شاذ ) ۴- شعبہ نے یہ حدیث بطریق «سلمة بن كهيل ، عن حُجر أبي العنبس ، عن علقمة بن وائل ، عن أبيه وائل» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھا تو آپ نے آمین کہی اور اپنی آواز پست کی ،
۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں ۱؎ انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے ، جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے «عن علقمة بن وائل» کا واسطہ بڑھا دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے ، حجر بن عنبس براہ راست حجر سے روایت کر رہے ہیں ، اور «وخفض بها صوته» ( آواز پست کی ) کہا ہے ، جب کہ یہ «ومدّ بها صوته» ( اپنی آواز کھینچی ) ہے ،
۶- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۔ اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: شعبہ نے اس حدیث میں تین غلطیاں کی ہیں ایک تو انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے جب کہ یہ حجر بن عنبس ہے دوسری یہ کہ انہوں نے حجر بن عنبس اور وائل بن حجر کے درمیان علقمہ بن وائل کے واسطے کا اضافہ کر دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے اور تیسری یہ کہ انہوں نے «و خفض بها صوته» کہا ہے جب کہ «مدّ بها صوته» ہے۔
۲؎: گویا سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس حدیث کی روایت میں علاء بن صالح اسدی نے سفیان کی متابعت کی ہے۔ (جو آگے آ رہی ہے)
۲؎: گویا سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس حدیث کی روایت میں علاء بن صالح اسدی نے سفیان کی متابعت کی ہے۔ (جو آگے آ رہی ہے)
حدیث نمبر: 249
قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجْرِ بْنِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` وائل حجر رضی الله عنہ سے سفیان کی ( پچھلی ) روایت جیسی روایت ہے ۔