حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اذان وہی دے جو باوضو ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بہتر یہی ہے کہ اذان باوضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " لَا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ وَهْبٍ ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَالزُّهْرِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ ، فَكَرِهَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ , وَإِسْحَاق ، وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَابْنُ الْمُبَارَكِ , وَأَحْمَدُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ` ابوہریرہ رضی الله عنہ نے کہا : نماز کے لیے وہی اذان دے جو باوضو ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو ابن وہب نے مرفوع روایت نہیں کیا ، یہ ۱؎ ولید بن مسلم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۳- زہری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ،
۴- بغیر وضو کے اذان دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض نے اسے مکروہ کہا ہے اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، اور بعض اہل علم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے ، اور اسی کے قائل سفیان ثوری ، ابن مبارک اور احمد ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو ابن وہب نے مرفوع روایت نہیں کیا ، یہ ۱؎ ولید بن مسلم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ،
۳- زہری نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے نہیں سنا ہے ،
۴- بغیر وضو کے اذان دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، بعض نے اسے مکروہ کہا ہے اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، اور بعض اہل علم نے اس سلسلہ میں رخصت دی ہے ، اور اسی کے قائل سفیان ثوری ، ابن مبارک اور احمد ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی عبداللہ بن وہب کی موقوف روایت جسے انہوں نے بطریق «يونس عن الزهري، عن أبي هريرة موقوفاً» روایت کی ہے، پہلی روایت (جو مرفوع ہے) کے مقابلہ میں ارجح ہے اور اس کا ضعف کم ہے۔