کتب حدیثسنن ترمذيابوابباب: دونوں پاتابوں اور جوتوں پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 99
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ : " تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالُوا : يَمْسَحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ نَعْلَيْنِ إِذَا كَانَا ثَخِينَيْنِ , قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ التِّرْمِذِيَّ قَال : سَمِعْتُ أَبَا مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِيَّ ، يَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي حَنِيفَةَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ جَوْرَبَانِ ، فَمَسْحَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ قَالَ : فَعَلْتُ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ أَكُنْ أَفْعَلُهُ ، مَسَحْتُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَهُمَا غَيْرُ مُنَعَّلَيْنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں اور جوتوں پر مسح کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ،
۲- کئی اہل علم کا یہی قول ہے اور سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ پاتابوں پر مسح کرے گرچہ جوتے نہ ہوں جب کہ پاتا بے موٹے ہوں ،
۳- اس باب میں ابوموسیٰ رضی الله عنہ سے بھی روایت آئی ہے ،
۴- ابومقاتل سمرقندی کہتے ہیں کہ میں ابوحنیفہ کے پاس ان کی اس بیماری میں گیا جس میں ان کی وفات ہوئی تو انہوں نے پانی منگایا ، اور وضو کیا ، وہ پاتا بے پہنے ہوئے تھے ، تو انہوں نے ان پر مسح کیا ، پھر کہا : آج میں نے ایسا کام کیا ہے جو میں نہیں کرتا تھا ۔ میں نے پاتابوں پر مسح کیا ہے حالانکہ میں نے جوتیاں نہیں پہن رکھیں ۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 99
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (559) , شیخ زبیر علی زئی: إسناده ضعيف / د 159 جه 559
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 61 (159) ، سنن النسائی/الطہارة 96 (123) ، و97/1 (125/م) ، سنن ابن ماجہ/الطہارة 88 (559) ، ( تحفة الأشراف : 11534) ، مسند احمد (3/252) (صحیح)»