مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 994
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ سَمُرَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَعَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَهُوَ الَّذِي يَسْتَحِبُّهُ أَهْلُ الْعِلْمِ ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ : أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُكَفَّنَ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي كَانَ يُصَلِّي فِيهَا ، وقَالَ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق : أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَيْنَا أَنْ يُكَفَّنَ فِيهَا الْبَيَاضُ وَيُسْتَحَبُّ حُسْنُ الْكَفَنِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سفید کپڑے پہنو ، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو بھی کفناؤ “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں سمرہ ، ابن عمر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور اہل علم اسی کو مستحب قرار دیتے ہیں ۔ ابن مبارک کہتے ہیں : میرے نزدیک مستحب یہ ہے کہ آدمی انہی کپڑوں میں کفنایا جائے جن میں وہ نماز پڑھتا تھا ، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : کفنانے کے لیے میرے نزدیک سب سے پسندیدہ کپڑا سفید رنگ کا کپڑا ہے ۔ اور اچھا کفن دینا مستحب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں امر استحباب کے لیے ہے اس امر پر اجماع ہے کہ کفن کے لیے بہتر سفید کپڑا ہی ہو۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 994
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1472)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کس رنگ کا کفن مستحب ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید کپڑے پہنو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو بھی کفناؤ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 994]
اردو حاشہ:
1؎:
اس حدیث میں امر استحباب کے لیے ہے اس امر پر اجماع ہے کہ کفن کے لیے بہتر سفید کپڑا ہی ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 994 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1757 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سرمہ لگانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اثمد سرمہ لگاؤ اس لیے کہ وہ بینائی کو جلا بخشتا ہے اور پلکوں کا بال اگاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ ہر رات تین سلائی اس (داہنی آنکھ) میں اور تین سلائی اس (بائیں آنکھ) میں سرمہ لگاتے تھے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1757]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ’’عباد بن منصور‘‘ مدلس ومختلط ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1757 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4061 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سفید کپڑوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4061]
فوائد ومسائل:
مستحب ہے کہ انسان سفید کپڑے پہنا کرے اور میت کو بھی سفید کفن دیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4061 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3878 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سرمہ لگانے کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو، اور تمہارے سرموں میں سب سے اچھا اثمد ہے، وہ روشنی بڑھاتا اور (پلک کے) بالوں کو اگاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3878]
فوائد ومسائل:
اثمد خاص اصفہانی سرمہ ہے جو سرخی مائل ہوتا ہے اور حجاز میں ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3878 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1472 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1472]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث میں سفید لباس کی تعریف ہے۔
اور اسے بہترین قرار دیا گیا ہے۔
اس لباس میں وقار اور رعنائی ہے جو مردانہ جلال کے مطابق ہے تاہم رنگدار لباس پہننا جائز ہے بشرط یہ کہ وہ رنگ ایسا نہ ہو۔
جو عرف عام میں عورتوں کے لباس کا رنگ تصور کیا جاتا ہو کیونکہ مردوں کے لئے عورتوں سے مشابہت حرام ہے۔

(2)
کفن کے لئے سفید کپڑا بہتر ہے۔
تاہم ہلکے رنگ کا کوئی کپڑا بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
ارشاد نبوی ﷺہے جب تمہارا کوئی فرد فوت ہوجائے اور اسے وسعت حاصل ہو تو چاہیے کہ اس کا کفن حبرہ (منقش دھاری دارچادر)
کا ہو (سنن ابی داؤد، الجنائز، باب فی الکفن: 3150)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1472 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5116 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سرمہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین سرمہ اثمد (ایک پتھر) ہوتا ہے، وہ نظر تیز کرتا اور بال اگاتا ہے۔‏‏‏‏ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان بن خثیم لین الحدیث ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5116]
اردو حاشہ: (1) اثمد سرمہ لگانا مستحب ہے۔ اور یہ استحباب مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہے کیونکہ احادیث مبارکہ کے الفاظ عام ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: (اکتحلوا بالاثمد...) تم اثمد سرمہ لگایا کرو۔ اس سے نظر روشن اور تیز ہوتی ہے اور (پلکوں کے) بال اگتے ہیں۔
(2) سرمہ جہاں نظرتیز کرنے کے لیے لگانا جائز ہے وہاں زینت کےلیے بھی اس کا استعمال جائز ہے۔ عورتوں کےلیے تو کوئی اختلاف نہیں، البتہ مردوں کے لیے بعض فقہاء نے بطور زینت منع فرمایا ہے کیونکہ یہ رنگ والی زنگ زینت ہے اور رنگ والی زینت مردوں کے لیے قطعاً منع ہے۔ لیکن یہ صریح نص کےمقابلے میں رائے ہے، اس لیے قبول نہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے تو خود مردوں کو سرمہ لگانے کی ترغیب بھی دی ہے۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5116 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 439 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´مرنے والوں کو سفید کفن دینا`
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید لباس زیب تن کیا کرو یہ تمہارے ملبوسات میں بہترین اور عمدہ لباس ہے اور اپنے مرنے والوں کو بھی اس میں کفن دیا کرو . . . [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 439]
فوائد و مسائل: ➊ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سفید لباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ و محبوب لباس تھا، گو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رنگ دار لباس بھی زیب تن فرمایا ہے۔
➋ مرنے والوں کو بھی سفید کفن ہی دینا چاہیے۔ بامر مجبوری دوسرے رنگ کا کپڑا بھی کفن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 439 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔