سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب فِي مَا جَاءَ فِي الْمِسْكِ لِلْمَيِّتِ باب: میت کو مشک خوشبو لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْمِسْكِ ، فَقَالَ : " هُوَ أَطْيَبُ طِيبِكُمْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الْمِسْكَ لِلْمَيِّتِ ، قَالَ : وَقَدْ رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ أَيْضًا ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَلِيٌّ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ثِقَةٌ ، قَالَ يَحْيَى : خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثِقَةٌ .´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشک کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” یہ تمہاری خوشبوؤں میں سب سے بہتر خوشبو ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اور اسے مستمر بن ریان نے بھی بطریق : «أبي نضرة عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے ، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ مستمر بن ریان ثقہ ہیں ، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ، ۴- اور بعض اہل علم نے میت کے لیے مشک کو مکروہ قرار دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عمدہ ترین خوشبو مشک ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1906]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے خوشبوؤوں میں مشک عمدہ خوشبو ہے “ (لہٰذا مردے کو یا کفن میں بھی اسے لگانا بہتر ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3158]
میت کو کوئی بھی عمدہ خوشبو لگانا مستحب ہے۔
تاہم کستوری ہوتو بہتر ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عورتوں کے لیے ریشم اور سونا حلال کیا، اور ان دونوں کو اس کے مردوں کے لیے حرام کیا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5267]