مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 985
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ، وَالنَّعْيُ أَذَانٌ بِالْمَيِّتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، وَأَبُو حَمْزَةَ هُوَ : مَيْمُونٌ الْأَعْوَرُ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، قَالَ 12 أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ النَّعْيَ ، وَالنَّعْيُ عِنْدَهُمْ أَنْ يُنَادَى فِي النَّاسِ أَنَّ فُلَانًا مَاتَ لِيَشْهَدُوا جَنَازَتَهُ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : لَا بَأْسَ أَنْ يُعْلِمَ أَهْلَ قَرَابَتِهِ وَإِخْوَانَهُ ، وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَا بَأْسَ بِأَنْ يُعْلِمَ الرَّجُلُ قَرَابَتَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے اسی طرح مروی ہے ، اور راوی نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔ اور اس نے اس میں اس کا بھی ذکر نہیں کیا ہے کہ ” «نعی» موت کے اعلان کا نام ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- یہ عنبسہ کی حدیث سے جسے انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے ، ۳- ابوحمزہ ہی میمون اعور ہیں ، یہ اہل حدیث کے نزدیک قوی نہیں ہیں ، ۴- بعض اہل علم نے «نعی» کو مکروہ قرار دیا ہے ، ان کے نزدیک «نعی» یہ ہے کہ لوگوں میں اعلان کیا جائے کہ فلاں مر گیا ہے تاکہ اس کے جنازے میں شرکت کریں ، ۵- بعض اہل علم کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں کہ اس کے رشتے داروں اور اس کے بھائیوں کو اس کے مرنے کی خبر دی جائے ، ۶- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کو اس کے اپنے کسی قرابت دار کے مرنے کی خبر دی جائے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: (984 ،985) إسناده ضعيف, أبوحمزة مسلم بن كيسان الأعور ضعيف (تق: 6641)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔