سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ التَّمَنِّي، لِلْمَوْتِ باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى خَبَّابٍ وَقَدِ اكْتَوَى فِي بَطْنِهِ ، فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ أَحَدًا لَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَقِيتُ لَقَدْ كُنْتُ وَمَا أَجِدُ دِرْهَمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي نَاحِيَةٍ مِنْ بَيْتِي أَرْبَعُونَ أَلْفًا ، وَلَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَتَمَنَّى الْمَوْتَ " لَتَمَنَّيْتُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ أَنَسٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ خَبَّابٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ` میں خباب بن ارت رضی الله عنہ کے پاس گیا ، ان کے پیٹ میں آگ سے داغ کے نشانات تھے ، تو انہوں نے کہا : نہیں جانتا کہ صحابہ میں کسی نے اتنی مصیبت جھیلی ہو جو میں نے جھیلی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہوتا تھا ، جب کہ اس وقت میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم پڑے ہیں ، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی تمنا کرنے سے نہ روکا ہوتا تو میں موت کی تمنا ضرور کرتا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- خباب رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں انس ، ابوہریرہ ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعد والوں نے فتوحات سے دنیاوی آرام اتنا حاصل کیا کہ بڑے بڑے مکانات کی تعمیر کر گئے اسی پر اشارہ ہے۔
بلکہ طول عمر کی دعا کرنا بہتر ہے جس سے سعادت دارین حاصل ہو اسی لئے نیکو کار لمبی عمروں والے قیامت میں درجات کے اندر شہداء سے بھی آگے بڑھ جائیں گے۔
جعلنا اللہ منھم امین۔
موت کی تمنا اس لیے ممنوع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی موت کا وقت مقرر کررکھا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔
موت کی تمنا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر تسلیم نہ کرنا بلکہ اس سے اظہار ناراضی کرنا ہے۔
ایک حدیث میں دنیوی مصیبتوں کی وجہ سے موت کی تمنا کو قابل مذمت قرار دیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی کسی کی قبر کے پاس سے گزرے گا توکہے گا: کاش! میں اس صاحب قبر کی جگہ پر ہوتا اور ایسا کہنا کسی دین داری کے خطرے کے پیش نظر نہیں ہوگا بلکہ دنیاوی بلاؤں اورمصیبتوں سے گھبرا کر ایساکہے گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7302(157)
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں میں خباب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اپنے پیٹ میں سات داغ لگوا رکھے تھے وہ کہنے لگے: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے نہ روکا ہوتا تو میں (شدت تکلیف سے) اس کی دعا کرتا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1824]
➋ جس طرح موت کی خواہش، تمنا اور دعا جائز نہیں، اسی طرح موت کی کوشش، یعنی خودکشی بھی جائز نہیں ہے، اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ انسان اپنی زندگی یا جسم و روح کا مالک نہیں بلکہ یہ تو اس کے پاس امانت ہے اور امانت کی حفاظت کی جاتی ہے، اسے ضائع نہیں کیا جاتا۔
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ ہم خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے، تو آپ کہنے لگے کہ میرا مرض طویل ہو گیا ہے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ” تم موت کی تمنا نہ کرو “ تو میں ضرور اس کی آرزو کرتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بندے کو ہر خرچ میں ثواب ملتا ہے سوائے مٹی میں خرچ کرنے کے “، یا فرمایا: ” عمارت میں خرچ کرنے کا ثواب نہیں ملتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4163]
فوائد و مسائل:
(1)
بیمار کی عیادت کرنا مسلمان کا مسلمان پر حق ہے۔
(2)
موت کی دعا کرنا منع ہے بلکہ اللہ سے مصیبت دور کرنے کی دعا کرنی چاہیے۔
(3)
بندہ اپنی جان اور صحت کے لیے جو خوراک استعمال کرتا ہے یا بیوی بچوں وغیرہ کو خوراک مہیا کرتا ہے اور ان کی دوسری لازمی ضروریات پوری کرتا ہے یہ صرف اس کا اخلاقی فرض ہی نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی ہے جس پر وہ ثواب کامستحق ہے۔
(2)
رہائش کے لیے گھر پر اس حد تک خرچ کرنا چاہیے جس سے ضرورت پوری ہو جائے۔
زیب و زینت پر رقم ضائع کرنا مناسب نہیں۔