حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَالْبَرَاءِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى أَبُو غِفَارٍ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ فَهُوَ أَصَحُّ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحَادِيثُ أَبِي قِلَابَةَ إِنَّمَا هِيَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ فَهُوَ عِنْدِي عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ برابر جنت میں پھل چنتا رہتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ثوبان کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ابوغفار اور عاصم احول نے یہ حدیث بطریق : «عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جس نے یہ حدیث بطریق : «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» روایت کی ہے وہ زیادہ صحیح ہے ، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوقلابہ کی حدیثیں ابواسماء ہی سے مروی ہیں سوائے اس حدیث کے یہ میرے نزدیک بطریق : «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» مروی ہے ، ۵- اس باب میں علی ، ابوموسیٰ ، براء ، ابوہریرہ ، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 967
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البروالصلة 13 (2568) ، ( تحفة الأشراف : 2105) ، مسند احمد (5/277، 281، 281، 283، 284) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2568

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2568 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جو بیمار کی عیادت کے لیے گیا وہ واپس لوٹنے تک جنت کے پھل میں رہتاہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6552]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مخرفة: باغ، یا اس کی روش، یا اس تک پہنچانے کا راستہ۔
خرفة: پھل۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا بیمار کی عیادت کے لیے آنا جانا، اس قدر پسندیدہ اور اعلیٰ عمل ہے کہ وہ جنت میں جانے اور اس کے پھل کے حصول کا ذریعہ اور سبب ہے، کیونکہ یہ عمل بیمار کی تسلی اور مسرت کا باعث بنتا ہے۔
اس لیے اس عمل کو اس کی راحت و آسائش میں خلل کا باعث نہیں ہونا چاہیے یا اس کے پاس اتنا زیادہ وقت بیٹھنا کہ اس کے لیے اذیت اور تکلیف کا سبب بنے درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2568 سے ماخوذ ہے۔