سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ باب: مریض کی عیادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ " . وَفِي الْبَاب : عَنْ عَلِيٍّ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَالْبَرَاءِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَجَابِرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ثَوْبَانَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى أَبُو غِفَارٍ، وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : مَنْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ فَهُوَ أَصَحُّ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَأَحَادِيثُ أَبِي قِلَابَةَ إِنَّمَا هِيَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ فَهُوَ عِنْدِي عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ .´ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو وہ برابر جنت میں پھل چنتا رہتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ثوبان کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- ابوغفار اور عاصم احول نے یہ حدیث بطریق : «عن أبي قلابة عن أبي الأشعث عن أبي أسماء عن ثوبان عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جس نے یہ حدیث بطریق : «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» روایت کی ہے وہ زیادہ صحیح ہے ، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابوقلابہ کی حدیثیں ابواسماء ہی سے مروی ہیں سوائے اس حدیث کے یہ میرے نزدیک بطریق : «عن أبي الأشعث عن أبي أسماء» مروی ہے ، ۵- اس باب میں علی ، ابوموسیٰ ، براء ، ابوہریرہ ، انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
مخرفة: باغ، یا اس کی روش، یا اس تک پہنچانے کا راستہ۔
خرفة: پھل۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا بیمار کی عیادت کے لیے آنا جانا، اس قدر پسندیدہ اور اعلیٰ عمل ہے کہ وہ جنت میں جانے اور اس کے پھل کے حصول کا ذریعہ اور سبب ہے، کیونکہ یہ عمل بیمار کی تسلی اور مسرت کا باعث بنتا ہے۔
اس لیے اس عمل کو اس کی راحت و آسائش میں خلل کا باعث نہیں ہونا چاہیے یا اس کے پاس اتنا زیادہ وقت بیٹھنا کہ اس کے لیے اذیت اور تکلیف کا سبب بنے درست نہیں ہے۔