سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ الْمَرِيضِ باب: بیمار کے ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا ، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَسَدِ بْنِ كُرْزٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، وَأَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے ، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص ، ابوعبیدہ بن جراح ، ابوہریرہ ، ابوامامہ ، ابو سعید خدری ، انس ، عبداللہ بن عمرو بن العاص ، اسد بن کرز ، جابر بن عبداللہ ، عبدالرحمٰن بن ازہر اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
طنب: طناب رسی۔
(2)
فسطاط: بڑاخیمہ۔