حدیث نمبر: 965
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا ، إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً ، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " . قَالَ : وَفِي الْبَاب ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَأَنَسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَسَدِ بْنِ كُرْزٍ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، وَأَبِي مُوسَى . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے ، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص ، ابوعبیدہ بن جراح ، ابوہریرہ ، ابوامامہ ، ابو سعید خدری ، انس ، عبداللہ بن عمرو بن العاص ، اسد بن کرز ، جابر بن عبداللہ ، عبدالرحمٰن بن ازہر اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، الروض النضير (819)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البر والصلة 14 (2572) ، ( تحفة الأشراف : 19953) ، موطا امام مالک/العین 3 (6) ، مسند احمد (6/39، 42، 160، 173، 175، 185، 202، 215، 215، 255، 257، 278، 279) (صحیح) وأخرجہ صحیح البخاری/المرضی 1 (5640) من غیر ہذا الوجہ بمعناہ۔»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5640 | صحيح مسلم: 2572 | معجم صغير للطبراني: 1014

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2572 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت اسود رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں،کچھ قریشی نوجوان منیٰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ہنستے ہوئے گئے تو انہوں نے پوچھا،کیوں ہنستے ہو؟انہوں نے کہا،فلاں انسان خیمہ کی طناب(رسی) پرگرپڑا اور قریب تھا اس کی گردن یا اس کی آنکھ ضائع ہوجاتی۔تو انہوں نے فرمایا:مت ہنسو،کیونکہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئےسنا:"جس مسلمان کو بھی کانٹا یا اس سے بڑی چیز چبتی ہے یا اس سے کم تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے لیے اس کے سبب ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے سبب اس کی ایک... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6561]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
طنب: طناب رسی۔
(2)
فسطاط: بڑاخیمہ۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2572 سے ماخوذ ہے۔