سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب باب: حج سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الْوَاسِطِيُّ المعنى واحد ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ : قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ قَالَ : " بِمِنًى " . قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ : " بِالْأَبْطَحِ " ، ثُمَّ قَالَ : " افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، يُسْتَغْرَبُ مِنْ حَدِيثِ إِسْحَاق بْنِ يُوسُفَ الْأَزْرَقِ ، عَنْ الثَّوْرِيِّ .´عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی الله عنہ سے کہا : مجھ سے آپ کوئی ایسی بات بیان کیجئیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کر رکھی ہو ۔ بتائیے آپ نے آٹھویں ذی الحجہ کو ظہر کہاں پڑھی ؟ انہوں نے کہا : منیٰ میں ، ( پھر ) میں نے پوچھا : اور کوچ کے دن عصر کہاں پڑھی ؟ کہا : ابطح میں لیکن تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے امراء و حکام کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اور اسحاق بن یوسف الازرق کی روایت سے غریب جانی جاتی ہے جسے انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، میں نے کہا: آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی چیز بتائیے جو آپ کو یاد ہو، آپ نے ترویہ کے دن ظہر کہاں پڑھی تھی؟ تو انہوں نے کہا: منیٰ میں۔ پھر میں نے پوچھا: کوچ کے دن ۱؎ عصر کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے کہا: ابطح میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3000]
(2) منیٰ سے واپسی کے موقع پر ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز ابطح (مکہ مکرمہ سے قریب باہر ایک میدان) میں پڑھنا اور وہاں رات کا۔ کچھ حصہ گزارنا مستحب ہے۔ اس عمل کو تحصیب کہا جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ کے بعد خلفاء بھی یہاں پڑاؤ کرتے رہے ہیں اور جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کی نفی منقول ہے، تو اس سے اس کی سنیت یا استحباب کی نفی نہیں بلکہ اس کے لزوم ووجوب کی نفی مراد ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ اس کے رہ جانے سے حج متاثر ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیے: (فتح الباري: 3/ 591)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے روز طواف افاضہ کرنے کے بعد ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نماز ظہر مکہ میں پڑھ چکے تھے یا مکہ میں نماز ظہر کے وقت پڑھی جانے والی نماز کی دو رکعتیں تھیں، پھر منیٰ واپس آ کر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک طواف افاضۃ کا وقت قربانی کے روز طلوع فجر کے بعد شروع ہو جاتا ہے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک آخری وقت 12 ذوالحجہ ہے اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک 13ذوالحجہ اس کے بعد آ نے کی صورت میں ایک جانور کی قربانی ضروری ہے، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ تاخیر پر قربانی ضروری نہیں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور صاحبین (ابو یوسف و محمد)
کے نزدیک اس کا وقت قربانی کے روز آدھی رات سے شروع ہو جاتا ہے اور اس کے آخری وقت کا تعیین نہیں ہے تاخیر کی وجہ سے اس پر قربانی نہیں ہے لیکن طواف زیارت کے بغیر مکمل طور پر حلال نہیں ہو سکے گا، اگر وہ وطن طواف زیارت کیے بغیر چلا گیا، تو احرام باندھ کر واپس آ کر جب چاہے طواف زیارت کرے گا، آئمہ اربعہ کا یہی موقف ہے حسن بصری کے نزدیک اس کو اگلے سال حج کرنا ہو گا۔
اگر اس طواف زیارت کے بغیر عورت سے تعلقات قائم کر لیے تو اس کے ذمہ دم (قربانی)
کا جانور ہو گا۔
(المغنی لا بن قدامہ ج5، ص245الدکتور التر کی)
عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا: مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو کہاں پڑھی؟ انہوں نے کہا: منیٰ میں، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی؟ فرمایا: ابطح میں، پھر کہا: تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1912]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بالترتیب اپنے اپنے وقت میں) ظہر اور عصر ‘ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں اور پھر مقام محصب پر تھوڑا سو گئے پھر سوار ہو کر بیت اللہ کی جانب تشریف لے گئے اور طواف کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/حدیث: 641]
«رقد رقدة» یعنی تھوڑا سا ہو گئے۔
«بالمحصب» یہ اس جگہ کا بیان ہے جہاں آپ نے نمازیں ادا فرمائیں اور اسراحت بھی فرمائی اور یہ کوچ کا آخری دن تھا، یعنی ایام تشریق کا تیسرا دن۔
«محصب» بروزن «محمد» ہے۔ جگہ کا نام ہے جو دو پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہے۔ وہ بہ نسبت مکہ کے منیٰ کے قریب ہے۔ اسے ابطح اور خیف بنی کنانہ بھی کہتے ہیں۔
«فطاف به» اس سے طواف وداع مراد ہے اور یہ حج کاسب سے آخری طواف ہوتا ہے۔