سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي يَوْمِ الْحَجِّ الأَكْبَرِ باب: حج اکبر کے دن کا بیان۔
حدیث نمبر: 957
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ يَوْمِ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ ، فَقَالَ : " يَوْمُ النَّحْرِ " .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : حج اکبر ( بڑے حج ) کا دن کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : «یوم النحر» ” قربانی کا دن “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حج اکبر کے دن کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» ” قربانی کا دن۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 957]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر (بڑے حج) کا دن کون سا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: «یوم النحر» ” قربانی کا دن۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 957]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں حارث اعورسخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
نوٹ:
(سند میں حارث اعورسخت ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناپر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 957 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3088 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” نحر (قربانی) کا دن ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3088]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حج اکبر کا دن کون سا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” نحر (قربانی) کا دن ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3088]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس لیے کہ اکثر امور حج طواف، زیارت، رمی اور ذبح وحلق وغیرہ اسی دن انجام پاتے ہیں۔
(اوریہ حدیث اس آیت کی تفسیرمیں لائیں ہیں) ﴿يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ﴾ (التوبة: 3)
وضاحت:
1؎:
اس لیے کہ اکثر امور حج طواف، زیارت، رمی اور ذبح وحلق وغیرہ اسی دن انجام پاتے ہیں۔
(اوریہ حدیث اس آیت کی تفسیرمیں لائیں ہیں) ﴿يَوْمَ الْحَجِّ الأَكْبَرِ﴾ (التوبة: 3)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3088 سے ماخوذ ہے۔