سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ باب: طواف افاضہ کے بعد عورت کو حیض آ جائے تو کیا ہو گا؟
حدیث نمبر: 944
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : " مَنْ حَجَّ الْبَيْتَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا الْحُيَّضَ ، وَرَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` جس نے بیت اللہ کا حج کیا ، اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ( وداع ) ہونا چاہیئے حائضہ عورتوں کے سوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رخصت دی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3071 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´طواف وداع کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کوچ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام خانہ کعبہ کا طواف ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3071]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کوچ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام خانہ کعبہ کا طواف ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3071]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حج اور عمرے میں بنیادی اہمیت بیت اللہ شریف کو حاصل ہے۔
اس لیے واپسی کے وقت بھی طواف وداع کا حکم دیا گیا ہے۔
(2)
کوشش کرنی چاہیے کہ طواف وداع اس وقت کیا جائے جب روانگی کے تمام انتظامات مکمل ہوچکے ہوں اور اب صرف مدینہ جانے کے لیے بس یا ٹیکسی اسٹینڈ پر جانا ہو۔
یا اپنے وطن روانہ ہونے کے لیے ائیرپورٹ یا بندرگاہ جانے کے لیے بالکل تیار ہوں۔
(3)
طواف وداع کے وقت مسجد سے باہر آتے وقت الٹے پاؤں چلنا سنت سے ثابت نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
حج اور عمرے میں بنیادی اہمیت بیت اللہ شریف کو حاصل ہے۔
اس لیے واپسی کے وقت بھی طواف وداع کا حکم دیا گیا ہے۔
(2)
کوشش کرنی چاہیے کہ طواف وداع اس وقت کیا جائے جب روانگی کے تمام انتظامات مکمل ہوچکے ہوں اور اب صرف مدینہ جانے کے لیے بس یا ٹیکسی اسٹینڈ پر جانا ہو۔
یا اپنے وطن روانہ ہونے کے لیے ائیرپورٹ یا بندرگاہ جانے کے لیے بالکل تیار ہوں۔
(3)
طواف وداع کے وقت مسجد سے باہر آتے وقت الٹے پاؤں چلنا سنت سے ثابت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3071 سے ماخوذ ہے۔