حدیث نمبر: 939
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَعْقِلٍ، عَنْ أُمِّ مَعْقِلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً " . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَجَابِرٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَوَهْبِ بْنِ خَنْبَشٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَيُقَالُ : هَرِمُ بْنُ خَنْبَشٍ ، قَالَ بَيَانٌ ، وَجَابِرٌ : عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَنْبَشٍ ، وقَالَ دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ : عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ هَرِمُ بْنِ خَنْبَشٍ ، وَوَهْبٌ أَصَحُّ ، وَحَدِيثُ أُمِّ مَعْقِلٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وقَالَ أَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق : قَدْ ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً " ، قَالَ إِسْحَاق : مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ مِثْلُ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام معقل رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ام معقل کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- ( وہب کے بجائے ) ھرم بن خنبش بھی کہا جاتا ہے ۔ بیان اور جابر نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن وهب بن خنبش» اور داود اودی نے یوں کہا ہے «عن الشعبي عن هرم بن خنبش» لیکن صحیح وہب بن خنبش ہی ہے ، ۳- اس باب میں ابن عباس ، جابر ، ابوہریرہ ، انس اور وہب بن خنبش رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۴- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ رمضان کا عمرہ حج کے ثواب برابر ہے ، اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مفہوم بھی اس حدیث کے مفہوم کی طرح ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی گئی ہے کہ جس نے سورۂ «قل هو الله أحد» پڑھی اس نے تہائی قرآن پڑھا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر اعتبار سے عمرہ حج کے برابر ہے، بلکہ صرف اجر و ثواب میں حج کے برابر ہے، ایسا نہیں کہ اس سے فریضہء حج ادا ہو جائے گا، یا نذر مانا ہوا حج پورا ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 939
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2993)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/المناسک 45 (2993) ( تحفة الأشراف : 18360) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1988 | سنن ابي داود: 1989

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رمضان میں عمرہ کی فضیلت کا بیان۔`
ام معقل رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 939]
اردو حاشہ: 1؎: یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہراعتبارسے عمرہ حج کے برابرہے، بلکہ صرف اجروثواب میں حج کے برابرہے، ایسانہیں کہ اس سے فریضہء حج ادا ہوجائے گا، یانذرماناہواحج پوراہوجائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 939 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1988 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عمرے کا بیان۔`
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے قاصد (جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎، چنانچہ دونوں (ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے ، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا (میرے ساتھ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1988]
1988. اردو حاشیہ: شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نےاے اللہ! رسول ﷺ میں عورت ذات ہوں۔سے کفایت کرجائے۔تک کے حصے کے بغیر اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔لیکن پھر اس کے بعد والا حصہ یعنی رمضان میں عمرہ حج سے کفایت کرتا ہے۔یہ بھی غیر صحیح ہونا چاہیے۔کیونکہ اس کا تعلق اسی سوال سے ہے۔جسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں دوسری صحیح روایات میں یہ الفاظ بیان ہوئے ہیں۔رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے۔ نہ کہ حج سے کفایت کرتاہے۔واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1988 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1989 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عمرے کا بیان۔`
ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ (حج کے لیے) نکلنے سے روک دیا؟ ، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے ، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا (یا سب کے لیے ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1989]
1989. اردو حاشیہ: ➊ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری (کتاب العمرۃ باب عمرۃ فی رمضان حدیث۔1782)میں لکھا ہے کہ یہ در اصل دو واقعات ہیں۔یہ اما معقل کا ہے اور اس سے پہلے والا حدیث (1988) میں ام طلیق کا ہے۔جیسے کہ ابو علی بن سکن نے اس کو نکالا ہے اور ابن مندہ نے کتاب الصحابہ اور دو لابی نے الکنیٰ میں نقل کیا ہے۔
➋ علامہ البانیرحمۃ اللہ علیہ نے پہلی حدیث (1988) میں عورت کا مقولہ (قد كبرت وسكمت۔۔۔الخ) کو غیر صحیح کہا ہے۔اوردوسری حدیث میں ام معقل کامقولہ (الحج حجة والمعرة عمرة۔۔۔الخ) کو ضعیف کہا ہے۔
➌ زوجین کو دینی ودنیاوی ہر معاملے میں ایک دوسرے کا معاون بننا چاہیے۔
➍ فی سبیل اللہ مال وقف کرنا انتہائی عزیمت کا عمل ہے۔اور حج بھی فی سبیل اللہ میں شمار ہے۔اس لئے حضرات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام احمد بن حنبل اور اسحاق راہویہ رحمۃ اللہ علیہ سفر حج میں جانے والوں کےلئے زکواۃ کی رقم س معاونت جائزسمجھتے ہیں۔ جبکہ دیگر عام علماء فی سبیل اللہ س مراد جہاد ہی لیتے ہیں۔اور اقرب یہ ہے کہ حجاج سے تعاون تبلیغی مساعی اور جہاد سبھی مواقع فی سبیل اللہ میں شامل ہیں۔واللہ اعلم۔
➎ رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہوتاہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرض ساقط ہوجائےگا۔
➏ جیسے حضور قلب اور اخلاص نیت کی بنا پر عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے ایسے ہی مبارک وقت کی مناسبت سے عمل کاثواب بڑھ جاتا ہے۔
➐ رمضان میں عمرہ کرنا از حد افضل اعمال میں سے ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1989 سے ماخوذ ہے۔