سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي عُمْرَةِ رَجَبٍ باب: رجب کے عمرے کا بیان۔
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ فِي أَيِّ شَهْرٍ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : " فِي رَجَبٍ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي شَهْرِ رَجَبٍ قَطُّ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، سَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا گیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا ؟ تو انہوں نے کہا : رجب میں ، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا ، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے ، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے نہیں سنا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر عائشہ رضی الله عنہا کی یہ بات سن کر خاموش رہے، کچھ نہیں بولے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ان پر مشتبہ تھا، یا تو وہ بھول گئے تھے، یا انہیں شک ہو گیا تھا، اسی وجہ سے ام المؤمنین کی بات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس سلسلہ میں صحیح بات ام المؤمنین کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´رجب کے عمرے کا بیان۔`
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 936]
عروہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے پوچھا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس مہینے میں عمرہ کیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: رجب میں، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی عمرہ کیا، اس میں وہ یعنی ابن عمر آپ کے ساتھ تھے، آپ نے رجب کے مہینے میں کبھی بھی عمرہ نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 936]
اردو حاشہ: 1؎: مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمرعائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ بات سن کر خاموش رہے، کچھ نہیں بولے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ ان پرمشتبہ تھا، یا تو وہ بھول گئے تھے، یا انہیں شک ہوگیا تھا، اسی وجہ سے ام المومنین کی بات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، اس سلسلہ میں صحیح بات ام المومنین کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 936 سے ماخوذ ہے۔