حدیث نمبر: 924
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَلَكِ أَجْرٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھا کر پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا اس پر بھی حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اور اجر تجھے ملے گا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- جابر کی حدیث غریب ہے ، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔

وضاحت:
۱؎ اس میں شافعی احمد، مالک اور جمہور علماء کے لیے دلیل ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ نابالغ بچے کا حج صحیح ہے، اس پر اسے ثواب دیا جائے گا اگرچہ اس سے فرض ساقط نہیں ہو گا اور بالغ ہونے کی استطاعت کی صورت میں اسے پھر سے حج کرنا پڑے گا اور نابالغ کا یہ حج نفلی حج ہو گا، امام ابوحنیفہ کا کہنا ہے کہ نابالغ بچے کا حج منعقد نہیں ہو گا وہ صرف تمرین ومشق کے لیے اسے کرے گا اس پر اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 924
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2910)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/المناسک 11 (2910) ( تحفة الأشراف : 3076) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2910

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بچے کے حج کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھا کر پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس پر بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور اجر تجھے ملے گا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 924]
اردو حاشہ:
1؎:
اس میں شافعی احمد، مالک اور جمہور علماء کے لیے دلیل ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ نابالغ بچے کا حج صحیح ہے، اس پر اسے ثواب دیا جائے گا اگرچہ اس سے فرض ساقط نہیں ہو گا اور بالغ ہونے کی استطاعت کی صورت میں اسے پھر سے حج کرنا پڑے گا اور نا بالغ کا یہ حج نفلی حج ہو گا، امام ابو حنیفہ کا کہنا ہے کہ نا بالغ بچے کا حج منعقد نہیں ہو گا وہ صرف تمرین و مشق کے لیے اسے کرے گا اس پر اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا، یہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 924 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2910 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بچے کا حج۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو حج کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں اور اجر و ثواب تمہارے لیے ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2910]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نابالغ بچے کا حج بھی ہو جاتا ہے لیکن وہ نفلی حج ہوتا ہے۔
بالغ ہونے کے بعد اگر طاقت ہوتو دوبارہ حج کرنا فرض ہے۔

(2)
بچے کے والدین یا سرپرست کو اس لیے ثواب ہوتا ہے کہ وہ بچے کو حج کی تربیت دیتے ہیں اور اسے ساتھ لے جانے کی مشقت برداشت کرتے ہیں نیز اس کی طرف سے رمی اور قربانی وغیرہ کے اعمال انجام دیتے ہیں اسی طرح طواف اور سعی میں بعض اوقات بچے کو اٹھا کر طواف اور سعی کراتے ہیں تاہم اس صورت میں وہ طواف اور سعی بچے کی طرف سے ہوتی ہے اٹھانے والے اپنا طواف اور سعی الگ سے کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2910 سے ماخوذ ہے۔