سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي طَوَافِ الزِّيَارَةِ بِاللَّيْلِ باب: طواف زیارت رات میں کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَائِشَةَ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخَّرَ طَوَافَ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي أَنْ يُؤَخَّرَ طَوَافُ الزِّيَارَةِ إِلَى اللَّيْلِ ، وَاسْتَحَبَّ بَعْضُهُمْ أَنْ يَزُورَ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَوَسَّعَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُؤَخَّرَ وَلَوْ إِلَى آخِرِ أَيَّامِ مِنًى .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ۲؎ ، ۲- بعض اہل علم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کرنے کی اجازت دی ہے ۔ اور بعض نے دسویں ذی الحجہ کو طواف زیارت کرنے کو مستحب قرار دیا ہے ، لیکن بعض نے اُسے منیٰ کے آخری دن تک مؤخر کرنے کی گنجائش رکھی ہے ۔
وضاحت:
۱؎ عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم کی یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کے مخالف ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے، جس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو دن میں طواف کیا، امام بخاری نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ ابن عمر اور جابر کی حدیث کو پہلے دن پر محمول کیا جائے اور ابن عباس اور عائشہ کی حدیث کو اس کے علاوہ باقی دنوں پر، صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں: «حديث ابن عباس وعائشة المذكور في هذا الباب ضعيف فلا حاجة إلى الجمع الذي أشار إليه البخاري، وأما على تقدير الصحة فهذا الجمع متعين» ۔ (ابن عباس اور عائشہ کی باب میں مذکور حدیث ضعیف ہے، اس لیے بخاری نے جس جمع و تطبیق کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ضرورت نہیں ہے اور صحت ماننے کی صورت میں جمع وتطبیق متعین ہے)۔
۲؎ امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں، کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ رضی الله عنہا سے سماع نہیں ہے، ابوالحسن القطان کہتے ہیں «عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ نهارا» ۔
۲؎ امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں، کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ رضی الله عنہا سے سماع نہیں ہے، ابوالحسن القطان کہتے ہیں «عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ نهارا» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طواف زیارت رات میں کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 920]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما اور ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت کو رات تک مؤخر کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 920]
اردو حاشہ:
1؎:
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم کی یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مخالف ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے، جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یوم النحر کو دن میں طواف کیا، امام بخاری نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ ابن عمر اور جابر کی حدیث کو پہلے دن پر محمول کیا جائے اور ابن عباس اور عائشہ کی حدیث کو اس کے علاوہ باقی دنوں پر، صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں: ’’حديث ابن عباس وعائشة المذكور في هذا الباب ضعيف فلا حاجة إلى الجمع الذي أشار إليه البخاري، وأما على تقدير الصحة فهذا الجمع متعين‘‘۔
(ابن عباس اور عائشہ کی باب میں مذکور حدیث ضعیف ہے، اس لیے بخاری نے جس جمع و تطبیق کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ضرورت نہیں ہے اور صحت ماننے کی صورت میں جمع و تطبیق متعین ہے)
2؎:
امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں، کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں ہے، ابو الحسن القطان کہتے ہیں ’’عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي ﷺ يومئذ نهاراً‘‘۔
نوٹ:
(ابو الزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز ابو الزبیر کا دونوں صحابہ سے سماع نہیں ہے، اور یہ حدیث اس صحیح حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دن میں طواف زیارت فرمایا تھا، اس لیے شاذ ہے)
1؎:
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم کی یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مخالف ہے جسے بخاری و مسلم نے روایت کی ہے، جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یوم النحر کو دن میں طواف کیا، امام بخاری نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ ابن عمر اور جابر کی حدیث کو پہلے دن پر محمول کیا جائے اور ابن عباس اور عائشہ کی حدیث کو اس کے علاوہ باقی دنوں پر، صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں: ’’حديث ابن عباس وعائشة المذكور في هذا الباب ضعيف فلا حاجة إلى الجمع الذي أشار إليه البخاري، وأما على تقدير الصحة فهذا الجمع متعين‘‘۔
(ابن عباس اور عائشہ کی باب میں مذکور حدیث ضعیف ہے، اس لیے بخاری نے جس جمع و تطبیق کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی ضرورت نہیں ہے اور صحت ماننے کی صورت میں جمع و تطبیق متعین ہے)
2؎:
امام ترمذی کا اس حدیث کو حسن صحیح کہنا درست نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں، کیونکہ ابو الزبیر کا ابن عباس سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع نہیں ہے، ابو الحسن القطان کہتے ہیں ’’عندي أن هذا الحديث ليس بصحيح إنما طاف النبي ﷺ يومئذ نهاراً‘‘۔
نوٹ:
(ابو الزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز ابو الزبیر کا دونوں صحابہ سے سماع نہیں ہے، اور یہ حدیث اس صحیح حدیث کے خلاف ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دن میں طواف زیارت فرمایا تھا، اس لیے شاذ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 920 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3059 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´طواف زیارت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3059]
ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر فرمائی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3059]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
۔
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو شاذ قراردیا ہے۔
شاذ کا مطلب ہے کہ یہ حدیث زیادہ قوی حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سےقابل ترک ہے۔
(2)
۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو تعلیقاً ان الفاظ سے روایت کیا ہے: نبی اکرم ﷺ نے زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب الزيارة يوم النحرقبل، حديث: 1722)
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی یہ توجیہ کی ہےکہ اس سے مراد ایام تشریق کی راتوں میں کعبہ کی زیارت ہے۔
دس ذوالحجہ کا طواف نہیں۔
وہ دن ہی میں ہوا۔ (فتح الباري: 3/ 716/ 717)
فوائد و مسائل:
(1)
۔
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو شاذ قراردیا ہے۔
شاذ کا مطلب ہے کہ یہ حدیث زیادہ قوی حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سےقابل ترک ہے۔
(2)
۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو تعلیقاً ان الفاظ سے روایت کیا ہے: نبی اکرم ﷺ نے زیارت کو رات تک مؤخر فرمایا۔ (صحيح البخاري، الحج، باب الزيارة يوم النحرقبل، حديث: 1722)
حافظ ابن حجر ؒ نے اس کی یہ توجیہ کی ہےکہ اس سے مراد ایام تشریق کی راتوں میں کعبہ کی زیارت ہے۔
دس ذوالحجہ کا طواف نہیں۔
وہ دن ہی میں ہوا۔ (فتح الباري: 3/ 716/ 717)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3059 سے ماخوذ ہے۔