حدیث نمبر: 910
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ صَاحِبِ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ ؟ قَالَ : " انْحَرْهَا ثُمَّ اغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهَا فَيَأْكُلُوهَا " . وَفِي الْبَاب عَنْ ذُؤَيْبٍ أَبِي قَبِيصَةَ الْخُزَاعِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ نَاجِيَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالُوا فِي هَدْيِ التَّطَوُّعِ إِذَا عَطِبَ : لَا يَأْكُلُ هُوَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِهِ ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ يَأْكُلُونَهُ ، وَقَدْ أَجْزَأَ عَنْهُ . وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَقَالُوا : إِنْ أَكَلَ مِنْهُ شَيْئًا غَرِمَ بِقَدْرِ مَا أَكَلَ مِنْهُ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : إِذَا أَكَلَ مِنْ هَدْيِ التَّطَوُّعِ شَيْئًا فَقَدْ ضَمِنَ الَّذِي أَكَلَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کی دیکھ بھال کرنے والے ناجیہ خزاعی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو اونٹ راستے میں مرنے لگیں انہیں میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” انہیں نحر ( ذبح ) کر دو ، پھر ان کی جوتی انہیں کے خون میں لت پت کر دو ، پھر انہیں لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ ان کا گوشت کھائیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ناجیہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ذویب ابو قبیصہ خزاعی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں کہ نفلی ہدی کا جانور جب مرنے لگے تو نہ وہ خود اسے کھائے اور نہ اس کے سفر کے ساتھی کھائیں ۔ وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دے ، کہ وہ اسے کھائیں ۔ یہی اس کے لیے کافی ہے ۔ یہ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا تو جتنا اس نے اس میں سے کھایا ہے اسی کے بقدر وہ تاوان دے ، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ نفلی ہدی کے جانور میں سے کچھ کھا لے تو جس نے کھایا وہ اس کا ضامن ہو گا ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (3106)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحج 19 (1762) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 101 (3106) ( تحفة الأشراف : 11581) ، موطا امام مالک/الحج 47 (148) ، مسند احمد (4/33) ، سنن الدارمی/المناسک 66 (1950) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1762 | سنن ابن ماجه: 3106 | مسند الحميدي: 904

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 904 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
904- سیدنا ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانوروں کے نگران تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! جو اونٹ تھک جائے اس کے ساتھ میں کیا طریقہ کار اختیار کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے ذبح کردو! پھر تم اس کے پاؤں کو اس خون میں ڈبو کر اسے اس اونٹ کے پہلو پر لگاؤ پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑدو۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:904]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی جانور مرنے لگے تو اس کو ذبح کر دینا چاہیے تاکہ اس کے گوشت سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں، اور یہ عام ہے لیکن جو جانور ہدی کے لیے خاص کیا گیا ہو، اور وہ جانور بیت اللہ کی طرف لے جایا جا رہا ہو، وہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے مرنے لگے تو اس کو ذبح کر لینا چاہیے، اس کے پاؤں کو خون لگا دینا چاہیے، اور اس کے پہلو پر خون کا نشان لگا دینا چاہیے۔ اس جانور کے گوشت سے خود کچھ نہیں کھانا چاہیے، لیکن اس محلے اور شہر کے رہنے والے لوگ اس سے کھا سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 903 سے ماخوذ ہے۔