سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب باب: قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب۔
حدیث نمبر: 907
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ ، وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " اشْتَرَى هَدْيَهُ مِنْ قُدَيْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَهَذَا أَصَحُّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے ثوری کی حدیث سے صرف یحییٰ بن یمان ہی کی روایت سے جانتے ہیں : اور نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر نے قدید ۱؎ سے خریدا ، اور یہ زیادہ صحیح ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
۲؎: یعنی یہ موقوف اثر اس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحییٰ بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔
۲؎: یعنی یہ موقوف اثر اس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحییٰ بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قربانی کے جانور سے متعلق ایک اور باب۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 907]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہدی کا جانور قدید سے خریدا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 907]
اردو حاشہ:
1؎:
قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
2؎:
یعنی یہ موقوف اثر اُس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحیی بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔
نوٹ:
(سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج 105 ح1693) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کر دیا ہے)
1؎:
قدید مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔
2؎:
یعنی یہ موقوف اثر اُس مرفوع حدیث سے کہ جسے یحیی بن یمان نے ثوری سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے۔
نوٹ:
(سند میں یحییٰ بن یمان اخیر عمر میں مختلط ہو گئے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ قدید سے ہدی کا جانور خود ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خریدا تھا جیسا کہ بخاری نے روایت کی ہے (الحج 105 ح1693) یحییٰ بن یمان نے اس کو مرفوع کر دیا ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 907 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3102 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ہدی کے جانوروں کو میقات کے پرے سے لے جانا۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3102]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی قدید سے خریدی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3102]
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل: (1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خود اپنا قربانی کا جانور مقام قدید سے خریدا تھا۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الحج، باب من اشتري الهدي من الطريق، حديث: 1693)
جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہدی کے جانور ذوالحلیفہ سے لائے تھے۔
(2)
قدید ایک جگہ کا نام ہےجو مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان میقات کی حدود سے اندر کی طرف واقع ہے۔ (محمد فواد عبد الباقی حاشیة سنن ابن ماجة)
فوئاد و مسائل: (1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خود اپنا قربانی کا جانور مقام قدید سے خریدا تھا۔ دیکھیے: (صحيح البخاري، الحج، باب من اشتري الهدي من الطريق، حديث: 1693)
جبکہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہدی کے جانور ذوالحلیفہ سے لائے تھے۔
(2)
قدید ایک جگہ کا نام ہےجو مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان میقات کی حدود سے اندر کی طرف واقع ہے۔ (محمد فواد عبد الباقی حاشیة سنن ابن ماجة)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3102 سے ماخوذ ہے۔