سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي رَمْىِ الْجِمَارِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا باب: جمرات کی رمی پیدل اور سوار ہو کر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا رَمَى الْجِمَارَ مَشَى إِلَيْهَا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : يَرْكَبُ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَمْشِي فِي الْأَيَّامِ الَّتِي بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَكَأَنَّ مَنْ قَالَ : هَذَا إِنَّمَا أَرَادَ اتِّبَاعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِعْلِهِ ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا رُوِيَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " رَكِبَ يَوْمَ النَّحْرِ حَيْثُ ذَهَبَ يَرْمِي الْجِمَارُ ، وَلَا يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ إِلَّا جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رمی جمار کرتے ، تو جمرات تک پیدل آتے جاتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- بعض لوگوں نے اسے عبیداللہ ( العمری ) سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ۴- بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہو سکتا ہے ، اور دسویں کے بعد باقی دنوں میں پیدل جائے گا ۔ گویا جس نے یہ کہا ہے اس کے پیش نظر صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی اتباع ہے ۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ دسویں ذی الحجہ کو سوار ہوئے جب آپ رمی جمار کرنے گئے ۔ اور دسویں ذی الحجہ کو صرف جمرہ عقبہ ہی کی رمی کرے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی (طواف سے) لوٹ کر۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1998]
زہری کہتے ہیں ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس جمرے کو کنکری مارتے جو منیٰ کی قربان گاہ کے قریب ہے، تو اسے سات کنکریاں مارتے، اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے، پھر ذرا آگے بڑھتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر قبلہ رو کھڑے ہو کر دعا کرتے اور کافی دیر تک کھڑے رہتے، پھر جمرہ ثانیہ کے پاس آتے، اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے اور جب جب کنکری مارتے اللہ اکبر کہتے۔ پھر بائیں جانب مڑتے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3085]
(2) بعض احادیث میں جو وادی کے پیٹ یا نشیب وغیرہ کا ذکر ہے، وہ اس دور میں تھا، بعد میں بھی رہا، مگر آج کل تو جمرات کے اردگرد ہر طرف جگہ ہموار ہے، کوئی نشیب و فراز نہیں۔ جمرات کو ستون نما بنا دیا گیا ہے بلکہ آج کل انھیں لمبی دیوار کی شکل دے دی گئی ہے۔ ہر طرف وسیع اور ہموار پختہ سڑکیں پھیلا دی گئی ہیں تاکہ رش پر قابو پایا جا سکے۔ یہ سب حاجیوں کی سہولت کے لیے کیا گیا ہے۔