سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي رَمْىِ الْجِمَارِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا باب: جمرات کی رمی پیدل اور سوار ہو کر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَى الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ ، وَقُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأُمِّ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَاخْتَارَ بَعْضُهُمْ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْجِمَارِ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَمْشِي إِلَى الْجِمَارِ " وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا أَنَّهُ رَكِبَ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ لِيُقْتَدَى بِهِ فِي فِعْلِهِ ، وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُسْتَعْمَلٌ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں جابر ، قدامہ بن عبداللہ ، اور سلیمان بن عمرو بن احوص کی ماں ( رضی الله عنہم ) سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ۴- بعض نے یہ پسند کیا ہے کہ وہ جمرات تک پیدل چل کر جائیں ، ۵- ابن عمر سے مروی ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمرات تک پیدل چل کر جاتے ، ۶- ہمارے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آپ نے کبھی کبھار سواری پر رمی اس لیے کی تاکہ آپ کے اس فعل کی بھی لوگ پیروی کریں ۔ اور دونوں ہی حدیثوں پر اہل علم کا عمل ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرہ کی رمی سواری پر کی۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 899]
نوٹ:
(سابقہ جابر کی حدیث نمبر886 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
اور اس کے ساتھ ہی خلالکم کے بھی معنی بیان کر دیئے پھر سورۃ کہف میں بھی خلالکم کا لفظ آیا تھا اس کی بھی تفسیر کردی (وحیدی)
حضرت امام بخاری ؒ چاہتے ہیں کہ احادیث میں جو الفاظ قرآنی مصادر سے آئیں ساتھ ہی آیات قرآنی سے ان کی وضاحت فرما دیں تاکہ مطالعہ کرنے والوں کو حدیث اور قرآن پر پورا پورا عبور حاصل ہو سکے۔
جزا اللہ خیرا عن سائر المسلمین۔
(1)
جب ایک کام سے فراغت کے بعد دوسرا کام شروع کرنا ہوتا ہے تو پہلے کام سے فراغت کے بعد بھگڈر مچ جاتی ہے اور لوگ شوروغل کرتے ہوئے دوسرے کام کی طرف دوڑتے ہیں، چنانچہ غروب آفتاب کے بعد جب لوگ وقوف عرفات سے فارغ ہوئے تو مزدلفہ پہنچنے کے لیے اپنے اونٹوں کو تیز دوڑانا شروع کر دیا اور شوروغل کرنے لگے۔
رسول اللہ ﷺ نے انہیں تنبیہ فرمائی کہ عرفات سے نکلتے وقت بے تحاشانہ بھاگیں اور نہ اونٹوں کو دوڑائیں کیونکہ ایسے موقع پر انہیں دوڑانا کوئی اچھا کام نہیں بلکہ ایسا کرنے سے نقصان کا اندیشہ ہے۔
(2)
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ حدیث میں جو الفاظ قرآنی مصادر سے آتے ہیں، ان کی قرآنی آیات سے وضاحت کر دیتے ہیں تاکہ مطالعہ کرنے والوں کو قرآن و حدیث پر بیک وقت عبور حاصل ہو، چنانچہ حدیث میں لفظ إيضاع آیا ہے۔
اس مناسبت سے آپ کا ذہن سورہ توبہ کی اس آیت کی طرف منتقل ہوا: ﴿وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ﴾ (التوبة: 47: 9)
’’اور تمہارے درمیان فتنہ برپا کرنے کے لیے ضرور ادھر ادھر دوڑتے پھرتے۔
‘‘ چونکہ اس آیت میں (خِلَالَكُمْ)
کا لفظ آیا ہے اس مناسبت سے سورۃ الکہف کی آیت کو زیر بحث لائے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَفَجَّرْنَا خِلَالَھُمَا نَھرًا ﴿٣٣﴾) (الکھف33: 18)
’’اور ہم نے ان کے درمیان ایک نہر جاری کر دی تھی۔
‘‘ مقصد یہ ہے کہ خلال کے معنی درمیان کے ہیں۔
واللہ أعلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے فرمایا: ” لوگو! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے انہیں (گھوڑوں اور اونٹوں کو) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع (مزدلفہ) آئے، (وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے): پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا: ” لوگو! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو۔“ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے (دوڑتے) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1920]
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1977]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر لی تو چلے گئے، رکے نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3033]
فوائد و مسائل:
(1)
دس ذوالحجہ کو صرف بڑے جمرے کو رمی کی جاتی ہے۔
اور یہ رمی صبح کے وقت سورج نکلنے کے بعد ہوتی ہے۔
(2)
گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کو تینوں جمرات کو سور ج ڈھلنے کے بعد کی جاتی ہے۔
(3)
تینوں جمرات کو رمی کرتے وقت پہلے چھوٹے جمرے کو پھر درمیان والے کو اور پھر بڑے جمرے کو رمی کی جاتی ہے۔
(4)
چھوٹے اور درمیانی جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد قبلے کی طرف منہ کر کے دعا کرنی چاہیے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جمرہ دنیا (چھوٹے جمرے)
کو سات کنکریا ں مارتے تھے ہر کنکری کے بعد تکبیر کہتے تھے پھر آگے بڑھ کر (ہموار)
میدان میں چلے جاتے اور قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
دیر تک کھڑے رہ دعا کرتے اور ہاتھ اٹھائے رکھتے۔
پھر درمیانی جمرے کو رمی کرتے پھر بائیں طرف ہو کر میدان میں چلے جاتے اور قبلہ رخ ہو کر دیر تک کھڑے ہوکر دعا کرتے اور ہاتھ اٹھا کر دیر تک کھڑے رہتے۔
پھر عقبہ والے جمرے کو وادی کے نشیبی حصے میں کھڑے ہوکر رمی کرتے اور اس کے پاس نہ ٹھرتے اور فرماتے تھے۔
میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ (صحيح البخاري، الحج، باب إذا رمي الجمرتين يقوم مستقبل القبلة و يسهل، حديث: 1751)
«. . . وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ . . .»
”. . . تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ . . .“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج: 3059]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے: «واياكم والغلو فى الدين، فانما أهلك من قبلكم الغلو فى الدين»
”تم دین میں غلوّ کرنے سے بچے رہنا، کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو دین میں غلوّ ہی نے ہلاک کر دیا تھا۔“ [مسند الامام احمد: 215/1، سنن النسائي: 3059، سنن ابن ماجه: 3029، مسند ابي يعلي: 2427، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 466/1، وسنده صحيح]
↰ اس حدیث کو امام ابن الجارود (م: 473 ھ)، امام ابن حبان (م: 3871 ھ)، امام ابن خزیمہ (م: 2867 ھ) نے ”صحیح“ اور امام حاکم نے اس کو امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی نے ان کی موافقت بھی کی ہے۔
↰ہر بدعت کا منشاء دین میں غلوّ ہوتا ہے۔ غلوّ سے مراد یہ ہے کہ عبادات میں شریعت كي بيان کردہ حدود و قیود اور طریقہ ہائےکار پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ ان کی ادائیگی میں خود ساختہ طریقوں کا اضافہ کر دیا جائے۔ چونکہ دین میں غلوّ ہلاکت و بربادی کا موجب ہے، لہٰذا عبادات کو بجا لانے کے سلسلے میں قرآن و سنت ہی پر اکتفا ضروری ہوتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی صبح مجھ سے فرمایا: اور آپ اپنی سواری پر تھے کہ ” میرے لیے کنکریاں چن دو۔“ تو میں نے آپ کے لیے کنکریاں چنیں جو چھوٹی چھوٹی تھیں کہ چٹکی میں آ سکتی تھیں جب میں نے آپ کے ہاتھ میں انہیں رکھا تو آپ نے فرمایا: ” ایسی ہی ہونی چاہیئے، اور تم اپنے آپ کو دین میں غلو سے بچاؤ۔ کیونکہ تم سے پہلے لوگوں کو ان کے دین میں غلو ہی نے ہلاک کر دیا ہے۔ “ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3059]
ابومجلز کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3080]