سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي الرَّمْىِ بَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد جمرات کی رمی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 898
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجِمَارَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی یوم النحر کے علاوہ باقی دنوں میں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد جمرات کی رمی کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 898]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمی جمار اس وقت کرتے جب سورج ڈھل جاتا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 898]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی یوم النحر کے علاوہ باقی دنوں میں۔
نوٹ:
(سابقہ حدیث نمبر894 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، حکم نے مقسم سے صرف پانچ احادیث ہی سنی ہیں، اور یہ شاید ان میں سے نہیں)
1؎:
یعنی یوم النحر کے علاوہ باقی دنوں میں۔
نوٹ:
(سابقہ حدیث نمبر894 سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، حکم نے مقسم سے صرف پانچ احادیث ہی سنی ہیں، اور یہ شاید ان میں سے نہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 898 سے ماخوذ ہے۔