سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ أَنَّ الإِفَاضَةَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ باب: سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 895
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَإِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَنْتَظِرُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ يُفِيضُونَ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مزدلفہ سے ) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ۳- جاہلیت کے زمانے میں لوگ انتظار کرتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا پھر لوٹتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 895]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مزدلفہ سے) سورج نکلنے سے پہلے لوٹے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 895]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’حکم‘‘ نے ’’مقسم‘‘ سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اور یہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے؟)
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’حکم‘‘ نے ’’مقسم‘‘ سے صرف پانچ احادیث سنی ہیں، اور یہ حدیث شاید ان میں سے نہیں ہے؟)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 895 سے ماخوذ ہے۔