سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي الْوُقُوفِ بِعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ بِهَا باب: عرفات میں ٹھہرنے اور دعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ كَانَ عَلَى دِينِهَا وَهُمْ الْحُمْسُ يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، يَقُولُونَ : نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ ، وَكَانَ مَنْ سِوَاهُمْ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ : وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ : أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ مِنْ الْحَرَمِ ، وَعَرَفَةُ خَارِجٌ مِنْ الْحَرَمِ ، وَأَهْلُ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، وَيَقُولُونَ : نَحْنُ قَطِينُ اللَّهِ يَعْنِي سُكَّانَ اللَّهِ ، وَمَنْ سِوَى أَهْلِ مَكَّةَ كَانُوا يَقِفُونَ بِعَرَفَاتٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199 . وَالْحُمْسُ هُمْ : أَهْلُ الْحَرَمِ .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں :` قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ - اور یہ «حمس» ۱؎ کہلاتے ہیں - مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے : ہم تو اللہ کے خادم ہیں ۔ ( عرفات نہیں جاتے ) ، اور جوان کے علاوہ لوگ تھے وہ عرفہ میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے آیت کریمہ «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” اور تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں “ ( البقرہ : ۱۹۹ ) نازل فرمائی ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اہل مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے اور عرفہ حرم سے باہر ہے ۔ اہل مکہ مزدلفہ ہی میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے : ہم اللہ کے آباد کئے ہوئے لوگ ہیں ۔ اور اہل مکہ کے علاوہ لوگ عرفات میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے حکم نازل فرمایا : «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں “ «حمس» سے مراد اہل حرم ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: قریش اور ان کے ہم مذہب لوگ - اور یہ «حمس» ۱؎ کہلاتے ہیں - مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور کہتے تھے: ہم تو اللہ کے خادم ہیں۔ (عرفات نہیں جاتے)، اور جوان کے علاوہ لوگ تھے وہ عرفہ میں وقوف کرتے تھے تو اللہ نے آیت کریمہ «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» ” اور تم بھی وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں “ (البقرہ: ۱۹۹) نازل فرمائی۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 884]
1؎:
حمس کے معنی بہادر اور شجاع کے ہیں۔
مکہ والے اپنے آپ کے لیے یہ لفظ استعمال کیا کرتے تھے۔