سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي الْوُقُوفِ بِعَرَفَاتٍ وَالدُّعَاءِ بِهَا باب: عرفات میں ٹھہرنے اور دعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ، قَالَ : أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ وُقُوفٌ بِالْمَوْقِفِ مَكَانًا يُبَاعِدُهُ عَمْرٌو ، فَقَالَ : إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ ، يَقُولُ : " كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَائِشَةَ ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، وَالشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، وَابْنُ مِرْبَعٍ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَإِنَّمَا يُعْرَفُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثُ الْوَاحِدُ .´یزید بن شیبان کہتے ہیں :` ہمارے پاس یزید بن مربع انصاری رضی الله عنہ آئے ، ہم لوگ موقف ( عرفات ) میں ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے عمرو بن عبداللہ امام سے دور سمجھتے تھے ۱؎ تو یزید بن مربع نے کہا : میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں ، تم لوگ مشاعر ۲؎ پر ٹھہرو کیونکہ تم ابراہیم کے وارث ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یزید بن مربع انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اسے ہم صرف ابن عیینہ کے طریق سے جانتے ہیں ، اور ابن عیینہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں ، ۳- ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے ، ان کی صرف یہی ایک حدیث جانی جاتی ہے ، ۴- اس باب میں علی ، عائشہ ، جبیر بن مطعم ، شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲؎: مشاعر سے مراد مواضع نسک اور مواقف قدیمہ ہیں، یعنی ان مقامات پر تم بھی وقوف کرو کیونکہ ان پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہی کے دور سے بطور روایت چلا آ رہا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
یزید بن شیبان کہتے ہیں: ہمارے پاس یزید بن مربع انصاری رضی الله عنہ آئے، ہم لوگ موقف (عرفات) میں ایسی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے عمرو بن عبداللہ امام سے دور سمجھتے تھے ۱؎ تو یزید بن مربع نے کہا: میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تم لوگ مشاعر ۲؎ پر ٹھہرو کیونکہ تم ابراہیم کے وارث ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 883]
1؎:
یہ جملہ مدرج ہے عمرو بن دینار کا تشریحی قول ہے۔
2؎:
مشاعر سے مراد مواضع نسک اور مواقف قدیمہ ہیں، یعنی ان مقامات پر تم بھی وقوف کرو کیونکہ ان پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام ہی کے دور سے بطور روایت چلا آ رہا ہے۔
یزید بن شیبان کہتے ہیں کہ ہم عرفہ کے دن عرفات میں ” موقف “ (ٹھہرنے کی خاص جگہ) سے دور ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے اور کہنے لگے تمہاری طرف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں، آپ فرماتے ہیں: تم اپنے مشاعر میں رہو کیونکہ تم اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3017]
یزید بن شیبان کہتے ہیں ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے (وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو (عمرو بن عبداللہ) امام سے دور سمجھتے تھے)، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر (نشانیوں کی جگہوں) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1919]
یزید بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف (ٹھہرنے کی جگہ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: ” تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم علیہ السلام کے وارث ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3011]
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اکرم ﷺ پہاڑوں کے دامن میں چٹانوں کے پاس ٹھہرے تھے۔
(2)
حاجی کے لیے ضروری نہیں کہ عرفات میں اسی جگہ ٹھہرے جہاں رسول اکرم ﷺ ٹھہرے تھے بلکہ وادی عرفہ کو چھوڑ کر پورے میدان عرفات میں جہاں بھی جگہ ملے ٹھہر جائے۔
(3)
ہماری شریعت میں حج کے احکام و مسائل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے مطابق ہیں۔
اہل عرب نے ان میں جو تبدیلیاں کرلی تھیں یا جو بدعات ایجاد کرلی تھیں رسول اللہﷺ نےاپنے عمل سے ان کی اصلاح کرکے صحیح طریقہ سکھا دیا۔