سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى مِنًى وَالْمُقَامِ بِهَا باب: منیٰ جانے اور وہاں قیام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 880
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْفَجْرَ ، ثُمَّ غَدَا إِلَى عَرَفَاتٍ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَنَسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ مِقْسَمٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : قَالَ يَحْيَى : قَالَ شُعْبَةُ : لَمْ يَسْمَعْ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ إِلَّا خَمْسَةَ أَشْيَاءَ وَعَدَّهَا ، وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيمَا عَدَّ شُعْبَةُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ۱؎ ، پھر آپ صبح ہی صبح ۲؎ عرفات کے لیے روانہ ہو گئے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- مقسم کی حدیث ابن عباس سے مروی ہے ، ۲- شعبہ کا بیان ہے کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ چیزیں سنی ہیں ، اور انہوں نے انہیں شمار کیا تو یہ حدیث شعبہ کی شمار کی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی ، ۳- اس باب میں عبداللہ بن زبیر اور انس سے بھی احادیث آئی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی: ظہر سے لے کر فجر تک پڑھی۔ ظہر، عصر جمع اور قصر کر کے، پھر مغرب اور عشاء جمع اور قصر کر کے۔
۲؎: یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔
۲؎: یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´منیٰ جانے اور وہاں قیام کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ۱؎، پھر آپ صبح ہی صبح ۲؎ عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 880]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ظہر اور فجر پڑھی ۱؎، پھر آپ صبح ہی صبح ۲؎ عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 880]
اردو حاشہ: 1 ؎: یعنی: ظہر سے لے کر فجر تک پڑھی۔
ظہر، عصر جمع اور قصر کر کے، پھر مغرب اورعشاء جمع اور قصر کر کے۔
2؎:
یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔
ظہر، عصر جمع اور قصر کر کے، پھر مغرب اورعشاء جمع اور قصر کر کے۔
2؎:
یعنی نویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے فوراً بعد۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 880 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 879 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´منیٰ جانے اور وہاں قیام کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ ۱؎ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھائی ۲؎ پھر آپ صبح ۳؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 879]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ ۱؎ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر پڑھائی ۲؎ پھر آپ صبح ۳؎ ہی عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 879]
اردو حاشہ:
1؎:
منیٰ: مکہ اور مزدلفہ کے درمیان کئی وادیوں پر مشتمل ایک کھلے میدان کا نام ہے، مشرقی سمت میں اس کی حدوہ نشیبی وادی ہے جو وادی محسّر سے اترتے وقت پڑتی ہے اور مغربی سمت میں جمرہ عقبہ ہے۔
2؎:
یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔
3؎:
یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
نوٹ:
(سند میں اسماعیل بن مسلم کے اندر آئمہ کا کلام ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
1؎:
منیٰ: مکہ اور مزدلفہ کے درمیان کئی وادیوں پر مشتمل ایک کھلے میدان کا نام ہے، مشرقی سمت میں اس کی حدوہ نشیبی وادی ہے جو وادی محسّر سے اترتے وقت پڑتی ہے اور مغربی سمت میں جمرہ عقبہ ہے۔
2؎:
یوم الترویہ یعنی آٹھویں ذی الحجہ۔
3؎:
یعنی سورج نکلنے کے بعد۔
نوٹ:
(سند میں اسماعیل بن مسلم کے اندر آئمہ کا کلام ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 879 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3004 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(آٹھویں ذی الحجہ کو) منیٰ جانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں (ذی الحجہ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3004]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں (ذی الحجہ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3004]
اردو حاشہ:
فائدہ: رسول اللہﷺ منی سے عرفات کی طرف سورج نکلنے کے بعد روانہ ہوئے اور مقام نمرہ پر جا کر ٹھہرگئے۔
سورج ڈھلنے پر نمرہ سے روانہ ہوکر عرفات تشریف لے گئے۔ (سنن ابن ماجه حديث: 3074)
فائدہ: رسول اللہﷺ منی سے عرفات کی طرف سورج نکلنے کے بعد روانہ ہوئے اور مقام نمرہ پر جا کر ٹھہرگئے۔
سورج ڈھلنے پر نمرہ سے روانہ ہوکر عرفات تشریف لے گئے۔ (سنن ابن ماجه حديث: 3074)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3004 سے ماخوذ ہے۔