حدیث نمبر: 878
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَجَاءٍ أَبِي يَحْيَى، قَال : سَمِعْتُ مُسَافِعًا الْحَاجِبَ، قَال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الرُّكْنَ ، وَالْمَقَامَ يَاقُوتَتَانِ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ ، طَمَسَ اللَّهُ نُورَهُمَا ، وَلَوْ لَمْ يَطْمِسْ نُورَهُمَا لَأَضَاءَتَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا قَوْلُهُ ، وَفِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَيْضًا ، وَهُوَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت میں سے دو یاقوت ہیں ، اللہ نے ان کا نور ختم کر دیا ، اگر اللہ ان کا نور ختم نہ کرتا تو وہ مشرق و مغرب کے سارے مقام کو روشن کر دیتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- یہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے موقوفاً ان کا قول روایت کیا جاتا ہے ، ۳- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 878
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ** , شیخ زبیر علی زئی: (878) ضعيف, رجاء بن صبيع : ضعيف (تق:19269) وقال العراقي : ضعفه الجمھور (تخر يج الاحياء 119/3 وله متابعة ضعيفة عندالحاكم (456/1)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف وانظر: مسند احمد (2/213، 214) (التحفة: 8930) (صحیح) (سند میں رجاء بن صبیح ابو یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے صحیح الترغیب رقم: 1147)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حجر اسود، رکن یمانی، اور مقام ابراہیم کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: حجر اسود اور مقام ابراہیم دونوں جنت کے یاقوت میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ نے ان کا نور ختم کر دیا، اگر اللہ ان کا نور ختم نہ کرتا تو وہ مشرق و مغرب کے سارے مقام کو روشن کر دیتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 878]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں رجاء بن صبیح ابو یحییٰ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی وجہ سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، دیکھیے صحیح الترغیب رقم: 1147)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 878 سے ماخوذ ہے۔