سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الطَّوَافِ عُرْيَانًا باب: ننگے طواف کرنے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ زَيْدِ بْنِ أُثَيْعٍ، قَالَ : سَأَلْتُ عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ ، قَالَ : " بِأَرْبَعٍ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ ، وَلَا يَجْتَمِعُ الْمُسْلِمُونَ وَالْمُشْرِكُونَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ ، فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ ، وَمَنْ لَا مُدَّةَ لَهُ فَأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ . ح´زید بن اثیع کہتے ہیں کہ` میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا : آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے ؟ ۱؎ انہوں نے کہا : چار باتوں کا : جنت میں صرف وہی جان داخل ہو گی جو مسلمان ہو ، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے ۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں ، جس کسی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہد ہو تو اس کا یہ عہد اس کی مدت تک کے لیے ہو گا ۔ اور جس کی کوئی مدت نہ ہو تو اس کی مدت چار ماہ ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
زید بن اثیع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ سے پوچھا: آپ کو کن باتوں کا حکم دے کر بھیجا گیا ہے؟ ۱؎ انہوں نے کہا: چار باتوں کا: جنت میں صرف وہی جان داخل ہو گی جو مسلمان ہو، بیت اللہ کا طواف کوئی ننگا ہو کر نہ کرے۔ مسلمان اور مشرک اس سال کے بعد جمع نہ ہوں، جس کسی کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی عہد ہو تو اس کا یہ عہد اس کی مدت تک کے لیے ہو گا۔ اور جس کی کوئی مدت نہ ہو تو اس کی مدت چار ماہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 871]
1؎:
یہ اُس سال کے حج کی بات ہے جب نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حج کا امیر بنا کر بھیجا تھا، (آٹھویں یا نویں سال ہجرت میں) اور پھر اللہ عزوجل کی طرف سے حرم مکی میں مشرکین و کفار کے داخلہ پر پابندی کا حکم نازل ہو جانے کی بنا پر آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ میں یہ احکام دے کر روانہ فرمایا تھا، راوی حدیث زید بن اُثیع الہمدانی اُن سے انہی احکام و اوامر کے بارے میں دریافت کر رہے ہیں جو ان کو نبی اکرم ﷺ کی طرف سے دے کر بھیجا گیا تھا۔