سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الطَّوَافِ باب: طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، قَالَ : كَانُوا يَعُدُّونَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَفْضَلَ مِنْ أَبِيهِ ، وَلِعَبْدِ اللَّهِ أَخٌ يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَيْضًا .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ` لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے ۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں ۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی "عبداللہ بن سعید بن جبیر" کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان۔`
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 867]
ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ لوگ عبداللہ بن سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل شمار کرتے تھے۔ اور عبداللہ کے ایک بھائی ہیں جنہیں عبدالملک بن سعید بن جبیر کہتے ہیں۔ انہوں نے ان سے بھی روایت کی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 867]
اردو حاشہ:
1؎:
مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی ’’عبداللہ بن سعید بن جبیر‘‘ کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
1؎:
مؤلف نے یہ اثر پچھلی حدیث کے راوی ’’عبداللہ بن سعید بن جبیر‘‘ کی تعریف میں پیش کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 867 سے ماخوذ ہے۔