حدیث نمبر: 866
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ خَمْسِينَ مَرَّةً ، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، سَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : إِنَّمَا يُرْوَى هَذَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے بیت اللہ کا طواف پچاس بار کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے اسی دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں انس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے ، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ تو ابن عباس سے ان کے اپنے قول سے روایت کیا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الضعيفة (5102) // ضعيف الجامع الصغير (5682) // , شیخ زبیر علی زئی: (866) إسناده ضعيف, أبوإسحاق عنعن (تقدم:105)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 5531) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع یحییٰ بن یمان شریک القاضی اور ابواسحاق سبیعی سب میں کلام ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس کا اپنا قول ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس نے بیت اللہ کا طواف پچاس بار کیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا جیسے اسی دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 866]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں سفیان بن وکیع یحییٰ بن یمان شریک القاضی اور ابو اسحاق سبیعی سب میں کلام ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن عباس کا اپنا قول ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 866 سے ماخوذ ہے۔