حدیث نمبر: 864
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي السَّعْيِ ، فَقُلْتُ لَهُ : " أَتَمْشِي فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، قَالَ : لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى ، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کثیر بن جمہان کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو سعی میں عام چال چلتے دیکھا تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ صفا و مروہ کی سعی میں عام چال چلتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے بھی دیکھا ہے ، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے بھی دیکھا ہے ، اور میں کافی بوڑھا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عمر سے اسی طرح مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 864
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (2988)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الحج 56 (1904) ، سنن النسائی/الحج 174 (2979) ، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988) ، ( تحفة الأشراف : 7379) ، مسند احمد (2/53) (صحیح)»