سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي الضَّبُعِ يُصِيبُهَا الْمُحْرِمُ باب: محرم کے لکڑبگھا کو شکار کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ : قُلْتُ لِجَابِرٍ : الضَّبُعُ أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ آكُلُهَا ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : قُلْتُ : أَقَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ : قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ : وَرَوَى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَصَحُّ ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُحْرِمِ إِذَا أَصَابَ ضَبُعًا ، أَنَّ عَلَيْهِ الْجَزَاءَ .´ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ` میں نے جابر رضی الله عنہ سے پوچھا : کیا لکڑ بگھا شکار میں داخل ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ( پھر ) میں نے پوچھا : کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ـ ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، میں نے کہا : کیا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید کا بیان ہے کہ یہ حدیث جریر بن حزم نے بھی روایت کی ہے لیکن انہوں نے جابر سے اور جابر نے عمر رضی الله عنہ سے روایت کی ہے ، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے ، ۳- اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ۔ اور بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ محرم جب لگڑ بگھا کا شکار کرے یا اسے کھائے تو اس پر فدیہ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کا حکم دیا، میں نے ان سے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ہاں (میں نے سنا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2839]
(2) اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ محرم بجو کو قتل یا شکار نہیں کر سکتا، البتہ اس کی حلت کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ اسے کھانا حلال سمجھتے ہیں۔ دیگر اہل علم نے اسے حرام کہا ہے کہ یہ ”ذوناب“ (کچلی والا جانور) ہے۔ مگر شاید وہ اس بات سے غافل رہے کہ یہاں ذوناب کے لغوی معنیٰ مراد نہیں بلکہ ”ذوناب“ سے مراد شکاری جانور ہے جیسے کتا، شیر، چیتا وغیرہ اور بجو بالا تفاق شکاری نہیں۔ ”ناب“ تو وجہ حرمت نہیں۔ اس ناب میں کیا حرج جو شکار نہ کرے۔ (تفصیل ان شاء اللہ آگے بیان ہوگی)۔
(3) اس حدیث سے اشارتاً یہ بات سمجھ آتی ہے کہ محرم کوئی ایسا جانور شکار نہیں کر سکتا جسے کھایا جاتا یا جو کسی منفعت کی وجہ سے شکار کیا جاتا ہو۔ اگر وہ شکار کرے گا تو اسے جزا دینی پڑے گی۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا (لگڑ بگڑ) ۱؎ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” وہ شکار ہے اور جب محرم اس کا شکار کرے تو اسے ایک دنبے کا دم دینا پڑے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3801]
1۔
اس حدیث سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ لگڑ بگڑ کا کھانا حلال ہے۔
کیونکہ اسے نبی کریمﷺ نے شکار قرا ر دیا ہے۔
یعنی جس کا شکارکرکے کھانا جائز ہے۔
2۔
دوسرا یہ معلوم ہوا کہ حالت احرام میں محرم اگر کسی جانور کا شکار کرلے گا تو اسے اس جانور کے مثل فدیہ ضروری ہوگا۔
اور یہ مثلیت ظاہری جسم کے ڈیل ڈول (قدوقامت) کے حساب سے ہوگی۔
نہ کہ قیمت کے اعتبارسے جیسے لگڑ بگڑ اور مینڈھا جسامت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔
3۔
لگڑ بھگڑ بھی ذوناب جانور ہے۔
اور ہر ذوناب درندہ حدیث کی رو سے حرام ہے۔
پھر اسے اس حدیث میں کیوں حلال قرار دیا گیا ہے۔
امام خطابی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ کُلُّ ذِي نابٍ مِنَ السباعِ کے عموم سے اس کی تخصیص ہوگئی ہے۔
اور امام ابن قیم نے کہا ہے کہ لگڑ بگڑ (ضبع) بھی اگرچہ درندہ ہی ہے، لیکن ہردرندے میں حرمت کی دو وجہیں ہیں۔
ایک کچلیوں کا ہونا او ردوسرا عادی درندہ ہونا اور درندہ کا وصف کچلیاں ہونے کے مقابلے میں زیادہ اہم اور خاص ہے۔
اس لئے کہ دونوں وصف رکھنے والے جانوروں کے کھانے سے کھانے والے کو اندر بھی درندگی والی قوت آجاتی ہے۔
جیسے شیر۔
لومڑی۔
وغیرہ ہیں۔
اور لگڑ بگڑ کچلیاں والا تو ہے۔
لیکن اس میں درندگی والی وہ قوت نہیں ہے جو مذکورہ جانوروں میں ہے، اس لئے اس کو حلال قرار دیا گیا ہے۔
واللہ اعلم۔
(تفصیل کےلئے دیکھئے عون المعبود)
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے شکار کئے ہوئے بجو کے کفارہ میں ایک مینڈھا متعین فرمایا، اور اسے شکار قرار دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3085]
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں جنگلی جانور کا شکار کرنا حرام ہے جب کہ حرم کی حد میں ہر شخص کے لیے شکار حرام ہے۔
خواہ احرام باندھا ہوا ہو یا نہ ہو۔
(2)
اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا﴾ (المائدة5/ 95)
’’اے ایمان والوں! شکار کو مت قتل کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔
اور جو شخص تم میں سی اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تواس پر وہ فدیہ واجب ہوگا جو مساوی ہوگا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے۔
جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں۔
یہ (فدیہ)
چوپایوں میں سے ہو جو (نیاز کے طور پر)
کعبہ تک پہنچایا جائے یا اس کا کفارہ مساکین کو دیا جائے یا اس کے برابر روزے رکھ لیے جائیں۔‘‘
(2)
لکڑبھگا کے برابر قربانی کے جانوروں میں سے مینڈھا ہے۔
(3)
قرآن مجید میں شکار کیے گئے جانور کےمثل (مساوی)
جانور قربان کرنے کا حکم ہے۔
اس سے مراد قدوقامت میں مساوی ہونا ہے۔
مثلاً: ہرن کے بدلے بکری اور گائے کے بدلے گائےمکہ پہنچائی جائے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف۔
سورۃ مائدہ آیت: 95)
عبدالرحمٰن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے «ضبع» (لکڑبگھا) ۱؎ کے متعلق سوال کیا، کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا میں اسے کھاؤں؟ کہا: ہاں، پھر میں نے عرض کیا: کیا آپ نے (اس سلسلے میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3236]
فوائد و مسائل:
(1)
لگڑ بھگا ایک جنگلی جانور ہے جسے لگڑ بگڑ بھی کہتے ہیں۔
یہ حلال ہے۔
(2)
بعض حضرات نے ضبع کا ترجمہ بجو کیا ہے جودرست نہیں۔
مزید تفصیل کےلیے دیکھیے: (سنن ابو داؤد (اردو)
طبع دار السلام حدیث: 3801)
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا، میں نے کہا: کیا وہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ کہا: ” ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4328]
(2) اسلاف میں یہ سوچ شعوری طور پر کار فرما تھی کہ وہ اپنے سوال کا مدلل ومحکم جواب حاصل کرنے کے لیے دلیل ضرور طلب کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ ابن ابو عمار نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ اور انھوں نے فرمایا: ہاں! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
(3) کسی بڑے سے بڑے عالم سے بھی دلیل طلب کی جا سکتی ہے۔
(4) دلیل طلب کرنا اس عالم کی توہین نہیں اور نہ اسے اپنی توہین ہی سمجھنا چاہیے بلکہ اسے بخوشی دلیل بیان کر دینی چاہیے۔
سیدنا ابن ابی عمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا بجو (چرگ) بھی شکار ہے؟ انہوں نے کہا ہاں! میں نے پھر پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں!۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور بخاری اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1140»
««إسناد صحيح» أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب في أكل الضبع، حديث:3801، والترمذي، الأطعمة، حديث:1791، والنسائي، الصيد، حديث:4328، وابن ماجه، الصيد، حديث:3236، وأحمد:3 /318، 322.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«ابن ابی عمار» ان کا نام عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی عمار قریشی مکی ہے۔
کثرت عبادت کی وجہ سے ان کا لقب قـسّ، یعنی راہب تھا۔
امام نسائی رحمہ اللہ نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔